اسرائیل کا غزہ میں 5 اہم حماس کمانڈروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

   

سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام،خان یونس اور غزہ کے مشرقی محاذ پر گولہ باری،مشرق غزہ میں فوجی پیش قدمی

تل ابیب : 23 نومبر ( ایجنسیز ) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے حماس کے 5 سینئر کمانڈروں کو اس حملے کے جواب میں ہلاک کیا ہے جس کا الزام اس نے حماس پر عائد کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حماس نے آج دوبارہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی اور اپنے ایک رکن کو اسرائیلی فوجیوں پر حملے کے لیے بھیجا۔بیان کے مطابق اسی اقدام کے جواب میں اسرائیل نے حماس کے 5 اہم رہنماؤں کو ہلاک کر دیا۔اسرائیلی حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے سیز فائر کی مکمل پابندی کی جبکہ حماس نے اس کی خلاف ورزی کی اور اپنے کارندوں کو فوجیوں پر حملے کے لیے بھیجا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ثالثوں کو ایک بار پھر زور دینا چاہیے کہ حماس سیزفائر اور امریکی صدر ٹرمپ کی 20 نکاتی منصوبہ بندی پر عمل کرے، تین ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں فوری واپس کرے اور اپنے ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی اجازت دے تاکہ غزہ کی مکمل غیر عسکریت ممکن ہو سکے۔بیان اس واقعہ کے بعد سامنے آیا جب اسرائیل نے غزہ شہر کے مغرب میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں 4 فلسطینی جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ ایک طبی ذریعے نے ہلاکتوں کی تصدیق کی۔حماس نے تصدیق کی کہ اس حملے میں اس کا سپلائی اور اسلحہ یونٹ کا کمانڈر علاء الحدیدی ہلاک ہوا ہے۔حماس کے ایک رہنما نے العربیہ الحدث کو بتایا کہ حماس نے امریکہ کو اسرائیلی خلاف ورزیوں پر اپنی شکایت پہنچائی ہے اور واضح کیا کہ یہ اقدامات معاہدے کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی سنگین اور بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں ثالثوں اور امریکی انتظامیہ کو ذمہ داری کا احساس دلاتی ہیں کہ وہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو روکیں۔اس دوران اسرائیلی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ سے رابطے جاری ہیں تاکہ غزہ کی صورتحال ہاتھ سے نہ نکل جائے۔حکام کا کہنا ہے کہ معاہدہ اب بھی برقرار ہے اور نہیں ٹوٹا۔ہفتے کے روز قبل ازیں اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی حصے پر دوبارہ گولہ باری کی۔ اسی طرح فوج نے غزہ شہر کے مشرق میں الشجاعیہ اور الزیتون محلے کے کئی علاقوں پر سخت گھیرا لگا دیا۔یہ مسلسل خلاف ورزیاں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب سیز فائر سنہ اکتوبر کی دس تاریخ سے نافذ ہے اور بنجمن نیتن یاھو مسلسل واضح کر چکے ہیں کہ وہ حماس کے ہتھیاروں کو برقرار رہنے کی اجازت نہیں دیں گے چاہے یہ ذمہ داری بین الاقوامی استحکامی فورس کو ہی کیوں نہ سونپی جائے۔اسرائیل ان حماس جنگجوؤں کو ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے جو جنوبی اور مشرقی غزہ کی سرنگوں میں محصور ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ محاصرے کے باعث ان میں سے درجنوں مارے جا چکے ہیں اور اس کے بعد وقف فائر کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف پیش رفت ہو گی۔مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے حالیہ ایام میں شہر کے مشرقی حصے میں مزید پیش قدمی کی اور اس نے وہ پیلا حدِّفاصل بھی عبور کر لیا جہاں وہ معاہدے کے بعد پیچھے ہٹ گئی تھی۔

اسرائیلی حملے میں مزید 24 فلسطینی شہید
غزہ۔ 23 نومبر (ایجنسیز) اسرائیلی فوج نے غزہ بھر میں فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے، جس میں کم از کم 24 فلسطینی شہید ہوگئے۔ حماس نے اسرائیلی جارحیت پر امریکہ سے مداخلت کی اپیل کر دی۔ میڈیا کے مطابق اسرائیل کے تازہ حملوں میں شہید ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں، حملوں میں 87 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پہلا حملہ شمالی غزہ شہر میں ایک کار پر ہوا، جس کے بعد وسطی دیرالبلح اور النصیرات پناہ گزین کیمپ میں مزید حملے کیے گئے، غزہ شہر میں ڈرون حملے میں کم از کم 11 افراد شہید اور 20 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

غزہ میں مصر کی مدد سے آخری تین اسرائیلی نعشوں کی تلاش
قاہرہ: 23 نومبر ( ایجنسیز) فلسطینی ذرائع نے ’’العربیہ کو بتایا ہے کہ غزہ کے لوگوں کی امداد کے لیے قائم مصری کمیٹی نے تین روز قبل بھاری مشینری کے ساتھ ریڈ کراس اور تکنیکی عملے کی نگرانی میں ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی تلاش کا کام شروع کیا۔فلسطینی ذرائع کے مطابق جس نعش کی تلاش وسطی غزہ میں خاص طور پر نصیرات کیمپ کے مغرب میں کی جا رہی ہے وہ ایک اسرائیلی خاتون کی ہے۔ تاہم تین دن سے تلاش جاری رہنے کے باوجود مطلوبہ لاش ابھی تک نہیں مل سکی ہے۔ذرائع نے وضاحت کی کہ لاشوں کی تلاش کا عمل روزانہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہتا ہے کیونکہ اسرائیلی قابض افواج رات کے وقت تلاش جاری رکھنے سے منع کرتی ہیں۔ اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے میں حماس کی جانب سے قتل کیے گئے 28 زیر حراست یرغمالیوں کی باقیات اسرائیل کو سونپنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس کے بدلے میں اسرائیل ہر اس نعش کے بدلے میں غزہ کے 15 فوت شدہ رہائشیوں کی باقیات مقامی حکام کے حوالے کرے گا جو حماس واپس کرے گی۔اب تک حماس نے 28 میں سے کل 25 نعشیں حوالے کر دی ہیں۔ تین کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ اس معاملے نے بین الاقوامی سطح پر یہ خدشہ پیدا کردیا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی جنگ کی وجہ سے تباہ شدہ پٹی کی تعمیر نو اور غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔