جنگ میں مزید شدت کا خدشہ
تل ابیب : اسرائیل نے جنوبی غزہ کے اہم شہر خان یونس کے مکینوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے جس کے بعد حماس اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں مزید شدت آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بدھ کو خان یونس کے ایک بڑے علاقے کو خالی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جہاں ایک لاکھ 40 ہزار متاثرین مختلف پناہ گاہوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فورسز نے خان یونس کے مشرقی علاقے میں بدھ کو دو گھروں پر فضائی حملے کیے جن میں کم از کم 30 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔اسرائیلی فورسز نے ایسے وقت میں فلسطینیوں کو خان یونس کا علاقہ چھوڑنے اور وہاں اپنی کارروائیاں تیز کرنے میں مصروف ہے جس میں جنگ بندی کے لیے عالمی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جب کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے مصر کے شہر قاہرہ میں موجود ہیں۔اسماعیل ہنیہ نے مصر کے انٹیلی جینس چیف عباس کامل کے سمیت ایران کے وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ تاہم ان ملاقاتوں کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔حماس ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ کسی بھی قسم کے سنجیدہ مذاکرات مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی فورسز کی غزہ کی پٹی سے واپسی سے مشروط ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کے خاتمے سے پہلے جنگ بندی نہیں ہو سکتی۔امریکی صدر جو بائیڈن کا جنگ بندی معاہدے سے متعلق کہنا ہے کہ اس وقت کسی بھی قسم کی توقع نہیں کی جا سکتی لیکن ہم اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔