اسرائیل کا قطر پر حملہ‘دوحہ میں آج عرب سربراہان اجلاس

,

   

عالمی برادری دوہرا معیار ترک کرے اور اسرائیل کو سزا دے : وزیراعظم قطر

دوحہ۔14؍ستمبر ( ایجنسیز) اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور قطر سے اظہارِ یک جہتی کیلئے قطری دارالحکومت دوحہ میں عرب اور اسلامی ممالک کا 2 روزہ ہنگامی اجلاس ہورہا ہے۔ دوحہ سے عرب میڈیا کے مطابق عرب اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا آج بند کمرے میں اجلاس ہوا۔وزرائے خارجہ نے کل پیر کوہونے والے سربراہان اجلاس کی قرار داد کا مسودہ تیار کیا ہے۔ سربراہان اجلاس میں اسرائیل کے خلاف مشترکہ قرار داد تیار کی جائے گی۔ اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت سعودی، ترک اور یمن کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ سربراہی اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ کے رکن ممالک شریک ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر دی۔ اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے قطر کی خود مختاری اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی پر متفقہ اور مؤثر رِدعمل دیا جائے گا۔ قطر پر اسرائیلی حملے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس دوحہ میں ہوگا۔ اجلاس میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔اجلاس میں ممکنہ طور پر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں مشترکہ لائحہ عمل اپنانے اور ایک قرارداد کی منظوری متوقع ہے۔ حکام کے مطابق یہ قرارداد کل ہونے والے او آئی سی سربراہان اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ سربراہی اجلاس پیر 15 ستمبر کو ہوگا۔قطر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس اجلاس میں اسرائیلی حملے پر باضابطہ قرارداد کے مسودے پر غور کیا جائے گا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد بن محمد الانصاری نے کہا کہ یہ کانفرنس عرب اور اسلامی دنیا کی وسیع تر یکجہتی اور قطر کے ساتھ اظہارِ حمایت کی علامت ہے۔دوحہ میں عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے میزبان قطر کے وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ عرب ممالک نے قطر میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عرب ممالک نے قطر کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے قانونی اقدامات کی حمایت کی اور کہا کہ اسرائیلی حملے کا سخت اور مؤثر جواب دیا جانا چاہیے۔قطر کے وزیرٍ اعظم نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ عالمی برادری دہرا معیار چھوڑ دے، عالمی برادری اسرائیل کو اس کے تمام جرائم پر جوابدہ ٹھہرائے، اسرائیل فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کے مقصد میں کامیاب نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت مسلسل ایک کے بعد ایک جنگ بندی کی تجاویز کو مسترد کر رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت جان بوجھ کر جنگ کا دائرہ خطے کے دیگر ممالک تک پھیلا رہی ہے۔قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات غزہ کی جنگ بندی کیلئے ہماری ثالثی کی کوششوں کو نہیں روک سکتے۔
عرب۔اسلامی ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد دوحہ میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں تجویز دی ہے کہ اسرائیل کے عزائم کی نگرانی اور توسیع پسندانہ منصوبوں کو روکنے کیلئے عرب۔اسلامی ٹاسک فورس قائم کی جائے۔انہوں نے ہنگامی عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس کی وزرائے خارجہ کی تیاری کے حوالے سے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر یہاں جمع ہیں تاکہ ایک اور غیر قانونی اسرائیلی حملے پر غور کرسکیں جو ایک برادر اور خودمختار ریاست پر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محض اس حقیقت سے کہ ہمیں بار بار ایسے اجلاس بلانے پڑ رہے ہیں، یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل عالمی امن اور سلامتی کیلئے ایک مستقل خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستان سخت الفاظ میں ریاست قطر کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اشتعال انگیز اور غیر قانونی حملہ قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

اسرائیل کا قطر پر حملہ عرب سلامتی کو نقصان پہنچانے کی سازش
آج شروع ہونے والے عرب اسلامی ہنگامی اجلاس سے قبل فلسطینی صدر محمود عباس نیوزایجنسی ’قنا‘ سے بات چیت

یروشلم، 14 ستمبر (یواین آئی) فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل عرب سلامتی کو نقصان پہنچانے کی سازش کررہا ہے ۔فلسطینی صدر محمود عباس نے قطر پر اسرائیلی حملے کو کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عرب اور عالمی سلامتی کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہا ہے ۔ کل پیر کے روز دوحہ میں عرب – اسلامی ہنگامی سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے ، جس میں اسرائیلی جارحیت کے اثرات پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس سے قبل قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی “قنا” سے خصوصی گفتگو میں محمود عباس نے زور دیا کہ عرب اور اسلامی دنیا کو اس چیلنج کا بھرپور اور متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق فوری اور سخت سفارتی اقدامات کے ساتھ اسرائیل کو اس کے مسلسل جرائم پر جواب دہ بنایا جانا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملہ نہ صرف ایک خودمختار ملک کی سلامتی پر حملہ ہے بلکہ یہ پیغام بھی ہے کہ مشترکہ عرب اور اسلامی تحفظ کو کمزور کیا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ “قطر کا امن دراصل ہمارے اجتماعی عرب اور اسلامی تحفظ کا حصہ ہے اور ہم سب ان حملوں کے خلاف ایک صف میں کھڑے ہیں”۔محمود عباس نے مزید کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا مقصد خطے کے استحکام کو متزلزل کرنا ہے ، جس کے مقابلے میں ایک متحدہ عرب اور اسلامی ردعمل ناگزیر ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں انسانی امداد کی فوری ترسیل، قابض افواج کے مکمل انخلا، مغربی کنارے اور القدس میں بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے دہشت گردانہ اقدامات کا خاتمہ، فلسطینی فنڈز کی واپسی اور تعمیرِ نو کے عمل کو آگے بڑھانا اب وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ فلسطینی صدر نے دوحہ اور قطر کی قیادت بالخصوص امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطر کا ثابت قدم مؤقف اس بات کا ثبوت ہے کہ جو قومیں اور ممالک حق اور انصاف کا دفاع کرتے ہیں، وہ جارحین کے عزائم کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔