واشنگٹن :امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ہمیں دو ہفتوں میں مقبوضہ مغربی کنارے میں 3,300 سے زائد غیر قانونی رہائش گاہیں تعمیر کرنے کے اسرائیل کے منصوبے سے مایوسی ہوئی ہے۔ارجنٹائن کے دورے کے دوران بلنکن نے اپنی ہم منصب ڈیانا موندینو ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی اور مشرق وسطیٰ کے ایجنڈے کا جائزہ لیا۔امریکی وزیر نے اسرائیلی انتظامیہ کی مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں میں 3,300 سے زائد مکانات کی تعمیر کی منظوری کو مایوس کن پیشرفت سے تعبیر کیا ہے۔بلنکن نے کہا کہ ہم نے بستیوں کے بارے میں خبریں دیکھی ہیں اورواضح طور پر انہوں نے کہا کہ ہمیں اس اعلان سے مایوسی ہوئی ہے۔ امریکی انتظامیہ چاہے ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ طویل عرصے سے یہ خیال رکھتی ہیں کہ نئی بستیوں کا امن کے حصول پر منفی اثر پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بستیاں بین الاقوامی قانون کے بر خلاف ہیں۔یہ انکشاف ہوا ہیکہ اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بیت لحم شہر کے قریب مالے ادومیم یہودی بستی میں 2,350 مکانات، کیدار میں تقریباً 300 مکانات اور افرات غیر قانونی یہودی آباد کاری میں مزید 700 مکانات کی تعمیر کی منظوری دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔
بلنکن نے اس خبر کا بھی جائزہ لیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نتن یاہو نے غزہ میں جنگ کے بعد کے حوالے سے کابینہ کو ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔بلنکن نے کہا کہ میں نے خبر دیکھی ہے لیکن منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہوں۔ غزہ دہشت گردی کا پلیٹ فارم نہیں بن سکتا۔ تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی غزہ کے رقبے کو تنگ کیا جانا چاہیے۔