صورتحال کے استحصال سے گریز کا مشورہ، جنوبی غزہ میں سربراہی آب بحال ہوجانے کا دعویٰ
واشنگٹن: امریکہ کے قومی سلامتی مشیر جیک سلی وان نے کہا کہ امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ درپردہ مذاکرات کئے ہیں اور اسے خبردار کیا گیا ہیکہ وہ اسرائیل کے ساتھ ٹکراؤ اور تصادم کو وسعت دینے سے گریز کرے۔ واضح رہیکہ امریکہ نے ایران کو یہ انتباہ ایسے وقت دیا ہے جبکہ اسرائیل کی جانب نہتے اور بے یار و مددگار فلسطینی عوام کے خلاف ایک بڑے زمینی حملہ کی تیاری کی جارہی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہی کہ وہ حماس کے حملوں کے جواب میں یہ کارروائیاں کررہا ہے۔ جیک سلی وان نے کہا کہ ہمارے ایران کے ساتھ خانگی مذاکرات کے ذرائع دستیاب ہیں اور ہم نے ان کا استعمال کرتے ہوئے گذشتہ چند دنوں میں ایران کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔ اس بات چیت میں ایران پر ان ہی امور کیلئے زور دیا گیا ہے جن کا ہم سرعام اظہار کرتے رہے ہیں۔ امریکہ کو شبہ ہیکہ ایران اسرائیل کے خلاف لڑائی کا ایک باضابطہ محاذ کھول سکتا ہے اور جنگ کا سکہ بن سکتا ہے۔ ایران لبنان میں حزب اللہ کے ذریعہ بھی اس جنگ میں بالواسطہ رول ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے علاقہ میں کشیدگی اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسرائیل کی مدد کیلئے ایک بڑا بحری جہاز روانہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس یہ کوئی باضابطہ یا مصدقہ انٹلیجنس اطلاعات نہیں ہیں کہ اسرائیل کی جنگ پھیل سکتی ہے۔ تاہم ایران نے خبردار کیا ہیکہ اسرائیل کو جنگی جرائم اور نسل کشی کا سلسلہ فوری روک دینا چاہئے قبل اس کے کہ صورتحال قابو سے باہر ہوجائے۔ ایران کا کہنا ہیکہ اس کے انتہائی دوررس عواقب ہوسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے ایکس پر یہ بیان دیا۔ امریکی مشیر قومی سلامتی نے اس دوران بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی عہدیداروں کی جانب سے نلوں میں پانی کی سربراہی بحال کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی عہدیداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہے اور عہدیداروں نے انہیں بتایا کہ جنوبی غزہ میں پانی کی سربراہی کو بحال کردیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی تاہم کوئی توثیق نہیں ہوئی۔ واضح رہیکہ دو دن قبل اسرائیل نے غزہ کیلئے پانی اور برقی کی سربراہی منقطع کردی تھی۔