اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی ،برطانوی وزیر تجارت کے پروگرام میں احتجاج

   

لندن: برطانیہ کے وزیر تجارت جوناتھن رینالڈ کو جمعرات کے روز اس وقت کافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرنے والے تھے۔ اچانک دو شہری سامنے آئے اور اسٹیج پر پہنچ گئے۔معلوم ہوا تھا کہ برطانوی وزیر تجارت بھی تھنک ٹینک سے خطاب کرنے والے ہیں۔اس لیے ان برطانوی شہریوں نے اسرائیل کے خلاف ردعمل دیا ہے جو کہ اب تک غزہ کی جنگ میں 50000 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چکا ہے۔ ان قتل کیے گئے فلسطینیوں میں زیادہ تر تعداد فلسطینی بچوں اور فلسطینی خواتین کی ہے۔اسرائیل نے 19 جنوری سے شروع ہونے والی جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے توڑتے ہوئے 18مارچ سے غزہ پر دوبارہ جنگ مسلط کر دی ہے۔
ان 8دنوں کے دوران لگ بھگ 800 فلسطینی کو قتل کیا ہے۔غزہ میں اسرائیل کا جنگ کو از سر نو مسلط کرنا یورپ و امریکہ سمیت دنیا بھر میں پہلے سے زیادہ غم و غصے کا اظہار سامنے آیا ہے۔ایک برطانوی شہری نے برطانوی حکومت کا غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کا ساتھ دینے پر F-35طیاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ‘اسرائیل کے لیے ان طیاروں کی تجارت بند نہیں کی گئی ہے۔رینالڈ نے کہا کہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات معطل کر دی گئی ہے۔ تاہم F-35طیاروں کے سلسلے میں معطلی نہیں کی ہے۔ یہ برطانوی قومی سلامتی اور یوکرین کے دفاع کیلیے لازم و ملزوم ہیں۔