واشنگٹن:اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف 3 ماہ سے زائد جاری جنگ کا مالی بوجھ بڑھ رہا ہے، اسرائیل کو روزانہ 22 کروڑ ڈالر کا خرچ اٹھانا پڑ رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی حمایت میں کمی ہو رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل مالی بحران کی وجہ سے اس جنگ سے نکلنے کی راہ تلاش کررہاہے، جس کے لیے عالمی اداروں سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کو عالمی عدالت انصاف میں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے اور اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے انتباہ کے باوجود حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر احتساب کا بھی سامنا ہے۔ خیال رہے کہ 7اکتوبر سے اب تک غزہ کی لڑائی میں اسرائیل کے 197 کے قریب فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل میں گھس کئی فوجی مقامات پر حملہ کیا تھا جس میں 1500 کے قریب صہیونی مارے گئے تھے جب کہ 250 کو یرغمالی بنالیاتھا۔
اس سے قبل چاند پر آج تک صرف امریکہ، سوویت یونین، چین اور بھارت نے لینڈنگ کی ہے۔
غزہ میں جنگ بندی تک اسرائیل سے کوئی تعلقات نہیں :سعودیہ
ڈاؤس : سعودی عرب نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں مکمل جنگ بندی تک تعلقات بحال نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق سوئٹزر لینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر ریما بنت بندر نے غزہ کی صورتحال، اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس سلسلے میں جوبائیڈن انتظامیہ کے کردار پر کھل کر بات کی۔ ریما بنت بندر نے کہا ہے کہ اسرائیل پہلے غزہ میں مکمل جنگ بندی کرے اس کے بعد ہی تعلقات کی بحالی اور تسلیم کرنے پر بات چیت کا آغاز ہو سکتا ہے، ہماری پالیسی میں اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے زیادہ غزہ میں امن اور خوشحالی کو اہمیت حاصل ہے۔ سعودی سفیر نے مزید کہا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا کہ غزہ میں ظلم و جبر جاری ہو اور اسی دن ہم تعلقات کی بحالی پر بھی بات کر رہے ہوں، اسرائیل کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ غزہ میں جاری اسرائیل کی جارحیت ہے۔ یاد رہے کہ کئی عرب ممالک کے برعکس سعودی عرب نے تاحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور اس حوالے سے امریکہ کی کوششوں کا جواب یہی دیا ہے کہ تنازعہ فلسطین کے دو ریاستی حل تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتے۔
