انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کی وجہ سے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو سے رابطہ ختم کر دیا ہے۔ترکیہ میڈیا کے مطابق رجب طیب اردغان نے ہفتے کو کہا کہ نیتن یاہو سے ہم بات نہیں کریں گے۔ ان سے بات چیت خارج از امکان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو تشدد کے بنیادی ذمہ دار ہیں اور وہ اپنے عوام کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک قدم پیچھے رہیں اور یہ سب روک دیں۔قازقستان سے واپسی کی پرواز پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے طیب اردغان نے کہا کہ ایرانی صدر اس مہینہ کے آخر میں ریاض میں مسلمان ممالک کے سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ان کے ایرانی ہم منصب صدر ابراہم رئیسی غزہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے نومبر کے آخر میں ترکیہ کا دورہ کریں گے براڈکاسٹر ہیبرٹرک اور دیگر کی رپورٹ کے مطابق قازقستان سے واپسی کی پرواز پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے طیب اردغان نے کہا کہ عالمی میکانزم پر اعتماد نہیں رہے گا۔ اگر اسرائیل کو نہ روکا گیا اور اسے اس کے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ نہ ٹھہرایا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) جنگ بندی پر زور دے گی اوراس مہینے کے آخر میں ہونے والے ریاض اجلاس میں وہ اس قدم کے پیرامیٹرز سے متعلق بات کرے گی۔ طیب اردگان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین نے حماس اسرائیل جنگ اور غزہ کی صورتحال پر منصفانہ موقف نہیں اپنایا اس کے نتیجے میں خطے میں اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔