اسرائیل کیخلاف اقتصادی پابندیاں لگانے بلجیم کا مطالبہ

   

برسلز : بلجیم کی نائب وزیراعظم نے اپنی حکومت پر زور دیا ہے کہ غزہ میں وحشیانہ کارروائیوں پر اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں۔بلجیم کی نائب وزیراعظم پٹراڈی سوٹرنے ایک ایکس پوسٹ میں کہا کہ اب اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا وقت ہے۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ بموں کی بارش غیر انسانی ہے اور غزہ میں جنگی جرائم کیے گئے ہیں جبکہ اسرائیل جنگ بندی کے عالمی مطالبات کو بھی نظر انداز کر رہا ہے اسی لیے میں وفاقی حکومت سے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرتی ہوں۔ایکس پوسٹ کے ساتھ ساتھ میڈیا کیلئے جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں لگانے کے ساتھ ساتھ غزہ میں ہاسپٹلس اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری کی تحقیقات بھی کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کو اسرائیل کے ساتھ وہ معاہدے فوری معطل کرنے چاہیے جو اقتصادی اور سیاسی تعاون کو بہتر بنانے کیلئے کیے گئے۔ بلجیم کی نائب وزیراعظم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ فلسطین کے مقبوضہ خطوں میں تیار ہونے والی اسرائیلی مصنوعات کی درآمدات پر بھی پابندی عائد کی جائے جبکہ جنگی جرائم کرنے والے یہودی آبادی کاروں ‘سیاستدانوں اور فوجیوں کی یورپی یونین میں آمد پر پابندی عائد کی جائے۔ نائب وزیراعظم کی جانب سے یہ مطالبہ اس وقت کیا گیا جب وہاں کی وفاقی حکومت میں شامل 7 میں سے 5 جماعتیں اسرائیلی بائیکاٹ کی حمایت کر رہی ہیں۔اس یورپی ملک کے وزیراعظم الیگزینڈر ڈی کروو کی جماعت کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے وہ اس طرح کی پابندی کی مخالف ہے۔