نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں پر دھوکہ سے حملہ‘70شہید‘اسرائیل کی جانب سے بدترین نسل کشی جاری
غزہ : غزہ کی پٹی پر صیہونی جارحیت کے نتیجے میں گذشتہ ہفتے سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 2,215 تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت صحت نے ہفتہ کو اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جارحیت سے مسلسل آٹھویں روز جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 2,215 ہوگئی جبکہ 8,714 زخمی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وارننگ کے بعد اسرائیلی قابض فوج نے شہریوں کو دھوکہ دیا اور انہیں جبری نقل مکانی پر مجبور کیا پھر آج سہ پہر انہیں نشانہ بنا کر اپنے جرم کو دوگنا کر دیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ قابض فوج نے ایک ایسا قتل عام کیا تھا جس میں تقریباً 200 شہریوں کی جانیں گئیں جن میں شہید اور زخمی بھی شامل تھے۔ کئی حاملہ خواتین بھی ان میں شامل تھیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ زخمیوں کو نکالنے کے دوران 3 ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے عملے کے 10 افراد زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی خاندانوں کے خلاف اسرائیلی قابض ریاست کے جرائم نے 50 خاندانوں کو ان کے گھروں کے اندر اور جبری بے گھر ہونے کے دوران ہلاک کیا اور اس قتل عام نے 500 افراد کی جانیں لے لیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی غاصب جارحیت کے متاثرین کو نکالنے کے لیے اپنے انسانی مشن کے دوران طبی اور ایمبولینس اہلکاروں کو نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے نتیجے میں 15 طبی اہلکار شہید اور 27 زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایمبولینسوں پر توجہ مرکوز کیے جانے والے اسرائیلی ہدف کے نتیجے میں 23 ایمبولینسیں تباہ ہوگئیں۔ انہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہاسپٹلس اور صحت کی سہولیات کواسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل نشانہ بنانے سے بیماروں اور زخمیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ اس کے نتیجے میں 15 ہاسپٹلس کو نقصان پہنچا ہے۔اسرائیل نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شمالی غزہ میں نقل مکانی کرنے والے قافلے پر بھی بمباری کردی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 70 فلسطینی شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق غزہ پٹی میں اسرائیلی ایئرفورس نے نقل مکانی کرنے والوں کو دھوکہ دے کر ان پر وحشیانہ بمباری کردی۔ یہ قتل عام صلاح الدین اسٹریٹ پر ہوا جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر آگئی ہیں، جن میں ٹرکس اور سڑکوں پر خواتین اور بچوں کی خون آلود نعشیں دیکھی جاسکتی ہیں۔اسرائیل نے شمالی غزہ کے 11 لاکھ رہائشیوں کو 24 گھنٹوں میں علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی تھی اور جب خواتین، بچے اور بوڑھے وہاں سے نقل مکانی کرنے لگے تو راستے میں انہیں نشانہ بناکر عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی اور ریاستی دہشت گردی کا ثبوت دیا گیا۔ شہداء میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں جن میں سے بچوں کی عمریں دو سے پانچ سال ہیں۔اسرائیل کی جانب سے زمینی حملہ کی تیاری کی جارہی ہے ۔ ادھر حزب اللہ کی جانب سے بھی لبنان سے ڈرون کے ذریعہ اسرائیل پر حملہ کرنے کی اطلاعات ہیں ۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکت پر شدید برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے جبکہ خطہ میں زبردست کشیدگی برقرار ہے ۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں زمینی حملے کرتے ہوئے حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ۔
سعودی عرب کی اسرائیل سے تعلقات
معمول پر لانے بات چیت معطل
ریاض : سعودی عرب نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے گفتگو روک دی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کیلئے بات چیت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے متعلق بات چیت روکنے کے فیصلے کا امریکی حکام کو مطلع کردیا گیا ہے۔حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث خطہ کی صورتحال کشیدہ ہے ۔ سعودی عرب کی کشیدگی کم کرنے اسرائیل سے بات چیت ناکام ہوگئی ۔