غزہ : حماس کے خارجی امور کے سربراہ خالد مشعل نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیل کی زمینی کارروائی قریب آ رہی ہے اور یہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نوجوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ اپنی ملاقات میں، مشعل نے حماس کے مسلح ونگ، عزالدین القسام بریگیڈز کی طرف سے اسرائیل کے خلاف 7 اکتوبر کی صبح “طوفانِ اقصیٰ ” کے نام سے شروع کیے گئے جامع حملوں اور اس کے بعد کی پیشرفت پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل 7 اکتوبر کی طرح کے مزید ایک نقصان کو برداشت نہیں کر سکتا، متحدہ امریکہ اسوقت جنگ یا کسی حربے پر عمل درآمد کیساتھ اپنے مطلوبہ مقاصد کو کم سے کم نقصان کے ساتھ حاصل کر نے کیلئے” مشترکہ منصوبہ بندی ، انتظام اوراعلی صلاحیت شراکت کے ساتھ جنگ کی جانب بڑھ رہا ہے۔امریکہ کی طرف سے تین راستوںکا جائزہ لینے پر توجہ مبذول کراتے ہوئے مشعل نے کہا کہ ان میں سے ایک زمینی راستے سے غزہ میں داخل نہ ہونا ہے، جس سے اسرائیل کو غزہ پر فضائی حملے کا طویل موقع ملا ہے۔مشعل نے کہا کہ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ امریکہ اپنے ماہرین کے ساتھ مداخلت کرے گا کیونکہ وہ سرنگوں میں موجود مزاحمتی قوتوں کی طاقت کو جانتا ہے اور اسی لیے غزہ کی گہرائی میں گھسنے کی جرات نہیں کرے گا۔