اسرائیل کی تجویز حیران کن اور ناقابل یقین، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا یورپی نظریہ یکسر نظرانداز
تل ابیب: ایک ایسے وقت میں جب غزہ جنگ کے بعد یورپی ممالک سمیت عالمی برادری فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دے رہی ہے اسرائیل نے ایک حیران کن اور ناقابل یقین تجویز دی ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کے باشندوں کو بحیرہ روم کے کسی جزیرے پر منتقل کیا جائے۔یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف یورپی یونین نے باور کرایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دیر پرامن کے حصول کا واحد راستہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے۔یورپی یونین پہلے ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہوطرف سے فلسطینی ریاست کے قیام کے خیال کو واضح طور پر مسترد کرنے پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کوملنے والی معلومات کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز نے ایک سیشن میں متعدد وزراء کی طرف سے بیان کردہ یورپی نقطہ نظر کو نظر انداز کر دیا۔اسرائیل نے بحیرہ روم میں ایک جزیرہ بنانے کی اپنی تجویز پیش کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ جس میں غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو منتقل کیا جائے گا۔ اسرائیل کے اس موقف بڑے پیمانے پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بلجیم اور پرتگال سمیت کئی ممالک کی جانب سے اس پر کھل کر تنقید کی گئی۔دوسری جانب فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے تل ابیب کی تجویز کا جواب دیتے کہا کہ فلسطینی اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے۔ فلسطینیوں کو جزیرے پر منتقل کرنے کی تجویز دینے والا خود جزیرے میں آباد ہوگا‘‘۔ ایک یورپی سفارت کار نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے بارے میں اسرائیلی حکام کے ساتھ بات چیت بہروں کے ساتھ گفتگو کی طرح ہے۔ پیر کو یورپی یونین نے اسرائیل، عرب فالو اپ کمیٹی کے ممالک اور فلسطینی اتھارٹی کو غزہ جنگ روکنے سے لے کر فلسطینی ریاست کے قیام اور علاقائی امن ’’روڈ میاپ‘‘ تجویز دیا ہے۔ غزہ جنگ کے خاتمے فائل میں ایک جامع امن منصوبہ شروع کرنا شامل ہے، جس کا تعلق فلسطینیوں اور اسرائیلیوں سلامتی کے مسئلے کو حل کرنا اور پھر عرب ممالک کی نگرانی میں غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کا عمل شروع کرنا ہے۔ فلسطینیوں کو دو ریاستی حل اسرائیل کے عزم کے بدلے میں حماس کا سیاسی متبادل بھی تیار کرنا چاہیے۔یورپی دستاویز میں امن کانفرنس کی تیاری کا مطالبہ شامل ہے، جس کے نتائج امن منصوبے کا مسودہ تیار کرنا اور بین الاقوامی فریقین کو اس میں حصہ ڈالنے کی دعوت دینا ہے۔یورپی دستاویز اسرائیل اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کو مضبوط سکیورٹی کی ضمانتیں دینے کی ضرورت پر زور دیتی ہے جس میں دونوں فریقوں کے درمیان باہمی رابطہ بھی شامل ہے۔