امریکہ کے زیراہتمام نومبر کے بعد چوٹی کانفرنس کے انعقاد کا منصوبہ
یروشلم ۔ 17 جون (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل آئندہ کانفرنس میں شرکت کرے گا جو امریکہ کے زیراہتمام منعقد کی جارہی ہے اور جس کا مقصد اسرائیل ۔ فلسطین تنازعہ کی یکسوئی ہے۔ وزیرخارجہ اسرائیل اسرائیل کاٹز میں اس بات کا انکشاف کیاکہ اسرائیل کی نمائندگی بحرین معاشی ورکشاپ میں ایک ایسے انداز میں کی جائے گی کہ جس کا فیصلہ وہ بعدازاں کریں گے۔ وزیرخارجہ اسرائیل نے اپنے ٹوئیٹر پر اتوار کے دن دیرگئے اس سلسلہ میں اپنا اعلان شائع کیا۔ اسرائیل نے اس علاقہ کی ترقی میں اس کا حصہ ادا کیا ہے۔ چنانچہ شرکت کا فیصلہ بعدازاں کیا جائے گا۔ اسرائیل نے کہا کہ ان میں علاقائی ترقی پر قابو پانے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی ہے۔ وہ ان کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جدت اور دیگر طریقے استعمال کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ انہوں نے غیرملکی خبر رساں ادارہ کو اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ اسرائیل کی نمائندگی سرکاری عہدیداروں اور کاروباری طبقہ کے قائدین کی جانب سے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 25 اور 26 جون کو جو چوٹی کانفرنس منعقد کی جائے گی اس میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ معاشی پہلو پر زور دیا جائے اور امریکہ سرگرمی کے ساتھ اس چوٹی کانفرنس کی قیادت کرے گا۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جرید کوشنر امریکہ کی نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی معاشی فوائد سے استفادہ کرسکیں گے۔ اگر وہ امریکی، سیاسی تجاویز میں شرکت کریں جن کی تفصیلات بعدازاں پیش کی جائیں گی کیونکہ ان کا ہنوز اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے سفیر برائے مشرق وسطیٰ نے اتوار کے دن اشارہ دیا ہیکہ امریکہ نومبر سے قبل اس چوٹی کانفرنس انعقاد کا ارادہ نہیں رکھتا۔ فلسطین نے انہیں اس منصوبہ کو پہلے ہی مسترد کردیا ہے۔ ان کا خیال ہیکہ یہ اسرائیل کے منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔ وہ بحرین ورکشاپ کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔ وائیٹ ہاؤس نے گذشتہ ہفتہ کہا تھا کہ مصر، مراقش اور اردن نے چوٹی کانفرنس میں شرکت سے اتفاق کیا ہے لیکن ان میں سے کسی نے بھی ہنوز اس خبر کی توثیق نہیں کی ہے اور اس کا بھی انکشاف نہیں کیا ہیکہ ان تینوں ممالک کی نمائندگی کون کرے گا۔ اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہیکہ وہ اپنے نائب مشرق وسطیٰ رابطہ کار کو اس کانفرنس میں شرکت کیلئے روانہ کرے گا۔ فلسطینی امریکہ اور فلسطین درمیان ٹرمپ انتظامیہ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت 2017ء کے اواخر میں تکمیل کرلینے کے بعد چوٹی کانفرنس مخالف ہوگئے ہیں۔
