اسرائیل کی وحشیانہ بمباری فلسطینی بچوں کے حوصلے پست نہ کرسکی

   

یروشلم : صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ پر مسلسل وحشیانہ بم باری بھی فلسطینی بہادر بچوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہی۔خبر رساں اداروں کے مطابق غزہ پر صہیونی ریاست کی جانب سے ایک ماہ سے مسلسل حملے اور بم باری جاری ہے، اس دوران قابض اسرائیلی فوج نے اسپتال، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، یہاں تک کہ ایمبولینسوں کو بھی بارود سے نشانہ بنا کر فلسطینیوں کی کھلم کھلا نسل کشی کی اور عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر کر دکھ دیں۔اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والے اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور ایسے ہی دیگر مقامات پر صہیونی فوج کی بم باری سے بے گھر ہونے والے فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے جب کہ مسلسل بمباری کے نتیجے میں فلسطینی شہدا کی تعداد 9 ہزار تجاوز کر چکی ہے جن میں سے زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے جب کہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق ایندھن ختم ہونے سے اسپتالوں اور دیگر طبی مراکز پر علاج معالجہ نہیں ہو پا رہا۔ اسی طرح امداد کی بندش کے علاوہ بجلی، پانی گیس سمیت دیگر بنیادی اشیا اور مواصلاتی ذرائع بند ہونے سے پہلے سے محصور پٹی کا دنیا سے رابطہ منقطع کردیا گیا ہے۔