دی ہیگ: عالمی عدالت انصاف میں صیہونی ریاست کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوسرے روز اسرائیل کی جانب سے کھلی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت ہی پر سوالات اٹھا دیئے گئے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صیہونی ریاست کی جانب سے سماعت کے دوسرے دن دلائل دیئے گئے، جس میں اسرائیلی وکیل نے عجیب و غریب مؤقف اختیار کرتے ہوئے غزہ میں فلسطینیوں کی شہادت کا ذمے دار ان کی محافظ مزاحمتی تحریک حماس ہی کو قرار دے دیا۔ صیہونی ریاست نے اپنے دلائل میں دنیا بھر کی طرح عدالت انصاف کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اسرائیل اپنا حق دفاع استعمال کررہا ہے جب کہ حماس اسپتالوں اور شہری مقامات کو استعمال کررہی ہے۔ اپنی دہشت گردی کو جواز فراہم کرتے ہوئے اسرائیلی وکیل نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائی عالمی قوانین کے مطابق ہیں۔ اسرائیلی وکیل نے جنوبی افریقہ کی جانب سے مقدمہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی نہیں کی جا رہی، اس حوالے سے جنوبی افریقہ مکمل کہانی نہیں سنا رہا۔ اسرائیل حماس کے معاملہ پر کوئی کمپرومائز نہیں کرے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صیہونی ریاست نے اپنے خلاف مقدمہ کی جنوبی افریقہ کی درخواست مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار ہی پر سوالات اٹھا دیئے۔
