تہران : /8 اپریل (ایجنسیز) اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جبکہ ایران نے سخت ردعمل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر انتہائی شدید فضائی حملے کرتے ہوئے صرف 10 منٹ کے اندر ملک کے مختلف علاقوں پر تقریباً 100 ایئر اسٹرائیکس کیں، جس کے نتیجے میں 100 افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اور 500سے زائد زخمی ہیں۔ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو ایران امریکہ کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ تہران نے امریکہ کو دوٹوک انداز میں خبردار کیا کہ اسرائیل کی کسی بھی کارروائی کو واشنگٹن کی شمولیت تصور کیا جائے گا۔ ایران نے ثالث ممالک کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مجوزہ مذاکرات میں شرکت اسی صورت ممکن ہوگی جب لبنان میں فوری طور پر جنگ بندی بحال کی جائے۔i/y
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے اس سخت مؤقف کے بعد خلیجی خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی سطح پر توانائی سپلائی اور امن و استحکام پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔