نیویارک : اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل نمائندے ریاض منصور نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک ایسے فلسطین کی کوششوں میں ہے جس میں کسی فلسطینی کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی غزّہ کے لئے منعقدہ ہنگامی نشست سے خطاب میں فلسطین کے مستقل نمائندے ریاض منصور نے کہا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی عوام کے خلاف مکمل معنوں اور باقاعدہ شکل میں جنگ شروع کر رکھی ہے۔ اسرائیل، مسئلے پر عسکری حل مسلط کر کے ایک ملّت کو صفحہ ہستی سے مکمل مٹانے کی کوششوں میں ہے۔منصور نے کہا ہے کہ اسرائیل نسل کْشی اور نسلی عصبیت کے ذریعے اپنے استبدادی اہداف پورے کر رہا ہے اور فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے اس کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ اصل میں اسرائیل کی تمام تر جدوجہد کا مقصد ایک ایسا فلسطین حاصل کرنا ہے جس میں کوئی فلسطینی نہ ہو۔انہوں نے کہا ہے کہ ہر روز مذّمتیں کی جا رہی ہیں، بیانات جاری ہو رہے اور اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ لیکن اب وقت کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ اسرائیل کی عسکری و مالی امداد بند کریں۔ اسرائیل کو ڈنکے کی چوٹ پر جرائم کی مہلت دینے کی خاطر اس کے سامنے ڈھال بننا اور اس کا شریک جْرم بننا بند کریں۔منصور نے ایک طرف غزہ کے بچوں کو پولیو ویکسین دینے اور دوسری طرف ان کے قتل کے لئے اسرائیل ہاتھ میں اسلحہ تھمانے کی طرف توجہ مبذول کروائی اور کہا ہے کہ “اسرائیل خود حفاظتی کے پردے میں عسکری حملوں کو جائز ثابت کرنے کی کوششوں میں ہے لیکن اصل مسئلہ زمین ہے۔ فلسطینیوں کو صرف اور صرف فلسطینی ہونے کی وجہ سے اور اپنی زمین پر زندہ رہنے کا خواہش مند ہونے کی وجہ سے مجرم ٹھہرایا جا رہا ہے۔