’’مملکت متحدہ پہاڑی علاقہ کو اسرائیل کے زیرقبضہ اراضی شمار کرتی ہے‘‘
لندن ۔ 23 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ نے باور کرایا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گولان کے پہاڑی علاقے پر اسرائیل کی حاکمیت تسلیم کرنے کے باوجود لندن اپنے موقف میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں شام سے یہ علاقہ چھین لیا تھا۔ برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’’مملکت متحدہ گولان کے پہاڑی علاقے کو اسرائیل کے زیر قبضہ اراضی شمار کرتی ہے۔ اس اراضی کو ایسی طاقت کے بل بوتے پر ضم کیا گیا جو اقوام متحدہ کے منشور سمیت بین الاقوامی قانون کے مطابق ممنوع ہے‘‘۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’ہم نے 1981 میں اسرائیل کی جانب سے (گولان کو) ضم کیے جانے کے عمل کو تسلیم نہیں کیا اور ہمارا اس موقف میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں‘‘۔ برطانیہ کا یہ موقف جمعہ کے روز متعدد ممالک اور تنظیموں کی جانب سے سامنے آنے والے اُن مواقف سے مطابقت رکھتا ہے جن میں پوری شدت سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کی گئی۔ جرمنی، فرانس، یورپی یونین، خلیج تعاون کونسل، مصر اور اردن نے اپنے بیانات میں اُن بین الاقوامی قرار دادوں کی یا دہانی کرائی ہے جو گولان کے قبضے کو ناجائز قرار دیتی ہیں۔ برطانیہ کا موقف اس لئے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا حامل ہے اور بین الاقوامی تنازعات میں یہ طاقت بہت اہمیت رکھتی ہے۔