اسسٹنٹ پروفیسرس کی جائیدادوں پر تقررات کیلئے نئے رہنمایانہ خطوط

   

Ferty9 Clinic

یو جی سی کے تازہ فیصلے سے 50 ہزار امیدواروں کو خطرہ ، پی ایچ ڈی لازمی
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ( یو جی سی ) کے تازہ فیصلہ سے اسسٹنٹ پروفیسرس جائیدادوں کے لیے تقریبا 50 ہزار امیدوار اہلیت سے محروم ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ اس سے قبل ان جائیدادوں پر تقررات کے لیے یہ تمام امیدوار اہل تھے ۔ مختلف یونیورسٹیز میں اسسٹنٹ پروفیسرس جائیدادوں پر تقررات کے لیے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے تازہ احکامات جاری کرتے ہوئے پی ایچ ڈی امیدواروں کو اہل قرار دیا ہے ۔ یو جی سی کے اس فیصلے سے بیروزگار نوجوانوں کو نقصانات ہونے کی تنقیدیں ہورہی ہیں ۔ بیروزگار نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ پر وزیراعظم کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اعتراض جتایا جانا تھا ۔ تاہم عہدیداروں کی جانب سے اس مسئلہ کو نظر انداز کردینے کا الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ ریاست میں کئی دہوں سے یونیورسٹیز میں اسسٹنٹ پروفیسرس کی جائیدادوں پر تقررات نہیں ہوئے سال 2017 میں 1061 جائیدادوں پر تقررات کے لیے حکومت نے منظوری دی تھی ۔ تاہم چند وجوہات کی بنا پر تقررات کا عمل مکمل نہیں ہوسکا ۔ ماضی میں ان جائیدادوں کے لیے نیشنل ایلجبلیٹی ٹسٹ ( نیٹ ) یا اسٹیٹ لیول ایلجبلیٹی ٹسٹ ( سلیٹ ) رکھنے والے امیدوار اہل تھے ۔ یہ نہ رکھنے والے امیدواروں کے لیے ایم فل یا پی ایچ ڈی رہنا کافی تھا ۔ تاہم یو جی سی نے اپنے تازہ فیصلے میں نیٹ اور سلیٹ رکھنے والے امیدواروں کو صرف ویٹیج مارکس دینے کا اعلان کرتے ہوئے پی ایچ ڈی کو لازمی قرار دیا ہے ۔ اس فیصلے پر یکم جولائی سے عمل آوری ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ ہائیر ایجوکیشن کونسل کی جانب سے عنقریب ریاست میں اسسٹنٹ پروفیسرس کی جائیدادوں پر تقررات کرنے کے اشارے دئیے جارہے ہیں ۔ اس ضمن میں کافی محنت و مشقت سے نیٹ اور سلیٹ میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو نقصان ہوگا ۔ ان امیدواروں نے پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے کی گنجائش ہونے کے باوجود اسسٹنٹ پروفیسرس کی جائیدادوں کے لیے نیٹ اور سلیٹ کی اہلیت کافی ہوجانے کا احساس کرتے ہوئے کئی امیدواروں نے پی ایچ ڈی میں دلچسپی نہیں دکھائی ۔ لیکن یو جی سی کے تازہ فیصلہ سے ان میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔۔