بل کا مسودہ تیار ، آئندہ اسمبلی اجلاس میں منظوری کا امکان
حیدرآباد۔/17 فروری ، ( سیاست نیوز) یونیورسٹیز میں اسسٹنٹ پروفیسر کی مخلوعہ جائیدادوں پر بھرتی کیلئے یونیورسٹیز کے قوانین میں ترمیم کرنے کا ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ اس قانون میں ترمیم کے بعد اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقررات عمل میں لانے کا امکان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اقدام کیلئے مسودہ بل کو تیار کرلیا گیا ہے۔ آئندہ اسمبلی اجلاس میں اس بل کو پیش کیا جائے گا۔ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن ( یو جی سی ) کے شرائط اور بتائی گئی تبدیلیوں، سابق میں عدالت کے فیصلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون میں ترمیم کی جارہی ہے۔ ریاست کی یونیورسٹیز میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے گذشتہ کئی سال سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقررات کیلئے گذشتہ پانچ سال سے جاری کوششوں کے باوجود کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔ اس ضمن میں تقررات کیلئے احکامات جاری کرنے کے باوجود بھی تقررات کا عمل تکمیل کو نہیں پہنچا۔ جس کے سبب امیدواروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ریاست تلنگانہ کی 11 یونیورسٹیز میں 2 ہزار سے زائد پروفیسرس اور اسسٹنٹ پروفیسرس کی مخلوعہ جائیدادیں ہیں تاہم کنٹراکٹ عملے کے ذریعہ طلبہ کو تعلیم دی جارہی ہے جبکہ 1,064 پروفیسرس، اسسٹنٹ پروفیسرس کی جائیدادوں پر بھرتی کیلئے سال 2017 میں جی او نمبر 34 جاری کیا گیا۔ لیکن ان تقررات کو بھی تاحال عمل میں نہیں لایا گیا۔ دوسری طرف ہر سال وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے پروفیسرس اور اسسٹنٹ پروفیسر کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کے سبب چند شعبہ جات بند ہونے کے در پے ہیں۔ اس طرح اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقررات میں شرائط کا اضافہ کرنے پر یو جی سی نے زور دیا ہے ایسی صورت میں اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقررات کو عمل میں لانے کیلئے حکومت نے یونیورسٹی کے موجودہ قانون میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مسئلہ پر کابینہ میں بات چیت بھی کی گئی۔ قانون میں ترمیم کیلئے چیف منسٹر کی جانب سے چیف سکریٹری کو احکامات جاری کرنے کی اطلاعات بھی ہیں اور اس جانب اقدامات کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ ع