سپریم کورٹ نے مرکز سے وضاحت طلب کی، 3 ہفتے کی مہلت، رنگناتھ مشرا کمیشن کا حوالہ
حیدرآباد۔/31 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے دلت طبقہ کے ایسے افراد جنہوں نے مذہب تبدیل کردیا ہو انہیں ایس سی طبقہ کو حاصل تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ پر مرکزی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ مرکز کو اس معاملہ میں موقف پیش کرنے کیلئے تین ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔ جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس وکرم ناتھ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مرکزی حکومت کو اس معاملہ میں حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ درخواست گذاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مرکز کے حلفنامہ کے اندرون ایک ہفتہ اپنے جوابی حلفنامے داخل کریں۔ تمام فریقین کو 11 اکٹوبر کو سماعت کی تاریخ سے کم از کم تین دن قبل دلائل اور دستاویزات کی تفصیلات پیش کرنی ہوں گی۔ جسٹس کول نے کہا کہ اس معاملہ کی سماعت میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ درخواست گذار حلفنامہ وقت پر داخل نہیں کرتے جس کے نتیجہ میں سماعت کا مکمل شیڈول متاثر ہوسکتا ہے۔ نیشنل کمیشن برائے مذہبی اور لسانی اقلیت نے 2007 میں ریٹائرڈ چیف جسٹس رنگناتھ مشرا کی قیادت میں رپورٹ پیش کی جس میں دلت کرسچنوں کو شیڈول کاسٹ موقف دیئے جانے کی تائید کی۔ غیر سرکاری ادارہ کی جانب سے نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے رپورٹ کی تفصیلات پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ عام طور پر یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ دلت کرسچن کو ایس سی تحفظات کے فوائد دیئے جائیں تو دلت کرسچن عیسائی تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم حاصل کرتے ہوئے زیادہ تر محفوظ نشستوں کو حاصل کرلیں گے۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ نیشنل کمیشن فار شیڈولڈ کاسٹس نے اس معاملہ میں حکومت کو تجویز پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ کمیونٹی کی آبادی کی بنیاد پر’’ سب ریزرویشن ‘‘ ( ذیلی تحفظات ) کے زمرہ میں فوائد دیئے جاسکتے ہیں۔ جسٹس کول نے سوال کیا کہ کیا تحفظات میں نئے تحفظات پیدا کرنا دستور کے مطابق ہے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا اقدام قانونی مباحث کا موضوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ او بی سی زمرہ میں ذیلی تحفظات فراہم کئے گئے لیکن ایس سی زمرہ میں ذیلی تحفظات کی فراہمی ایک قانونی سوال ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ دلت کے مذہب تبدیل کرنے کے بعد ایس سی طبقہ کو حاصل فوائد برقرار رکھنا اہم سوال ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ تحفظات کی فراہمی کی صورت میں تبدیلی مذہب کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے۔ سالیسٹر جنرل نے بتایا کہ اس وقت کی حکومت نے رنگناتھ کمیشن کی سفارشات کو مختلف وجوہات کی بناء پر قبول نہیں کیا اور کہا تھا کہ کمیشن نے کئی امور کا احاطہ نہیں کیا ہے۔ ر
(سلسلہ صفحہ 2 پر )