اسلام آباد : پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ جمعرات کو ساتویں روز وزیرِ آباد سے روانہ ہو گا۔ عمران خان تین مقامات پر کارکنوں سے خطاب کریں گے۔تحریکِ انصاف کے مطابق مارچ کے ساتویں روز عمران خان لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے وزیرِ آباد کے قریب کوٹ حضری میں مارچ کی قیادت کریں گے۔شیڈول کے مطابق مارچ آج بھی سات سے نو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرے گا اور عمران خان وزیرِ آباد کے قریب مولانا ظفر علی چوک، اللہ ہو چوک اور پھر کچہری چوک پر کارکنوں سے خطاب کریں گے جس کے بعد مارچ آج کے دن کے لئے ختم ہو جائے گا۔تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پیر سے لانگ مارچ کا آخری مرحلہ شروع ہو گا۔وزیر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں 10 سے 15 لاکھ لوگ جمع ہوں گے۔ عمران خان پہلے روات پہنچیں گے جس کے بعد وہ بڑے قافلے کے ساتھ اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کیا گیا شرائط نامہ مضحکہ خیز ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر استعمال نہیں ہو گا۔ اْن کے بقول لاکھوں کے مجمع سے لاؤڈ اسپیکر کے بغیر کیسے بات ہو گی۔پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریکِ انصاف کو اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت دینے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔جمعرات کو سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ تحریک انصاف یقین دہانی کرائے کہ اْن کا احتجاج پرامن ہو گا۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ احتجاج ہر کسی کا بنیادی حق ہے، لیکن شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ بھی ریاست کی ذمے داری ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد انتظامیہ کی ذمے داری ہے کہ وہ احتجاج کے دوران امن و امان کا قیام یقینی بنائے۔اسلام آباد میں احتجاج کے لئے انتظامیہ نے تحریکِ انصاف سے 39 نکاتی بیانِ حلفی طلب کر لیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی یہ یقین دہانی کرائے کہ احتجاج کے دوران کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا قانون ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا۔بیانِ حلفی میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے مارچ میں کسی قسم کا اسلحہ نہیں لایا جائے گا۔ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ 18 برس سے کم عمر کے بچے احتجاج میں شریک نہیں ہوں گے۔اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو تجویز دی ہے کہ وہ اسلام آباد کے قریب جی ٹی روڈ پر مویشی منڈی گراؤنڈ میں جلسہ کر لیں، تاہم پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ وہ پشاور موڑ پر جلسہ کرے گی۔انتظامیہ نے پی ٹی آئی سے طلب کئے گئے بیانِ حلفی پر عمران خان کے دستخط لازمی قرار دیے ہیں۔