ڈرون …ڈرون… ڈرون
نئی دہلی ؍ جموں : اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کامپلکس پر ایک ڈرون کو گردش کرتے دیکھا گیا، جس پر ہندوستان نے پاکستان سے سخت احتجاج کیا۔ گزشتہ ہفتے کے اواخر پیش آئے واقعہ سے واقف ذرائع نے جمعہ کو یہ بات بتائی۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان نے اِس واقعہ کو سکیورٹی کی خلاف ورزی مانا ہے جو مشن کے لئے باعث تشویش ہے۔ ہندوستانی ہائی کمیشن نے پہلے ہی اِس مسئلہ کو پاکستانی حکام سے رجوع کرتے ہوئے سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ اِس واقعہ کے بارے میں ابھی کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا لیکن 27 جون کو جموں ایئرفورس اسٹیشن پر دھماکو مادے سے لدے ڈرونس کی گردش کے بعد سے ہندوستان کے سکیورٹی انتظامیہ میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ڈرونس حملے کے مقصد سے بھیجے گئے تھے۔ حالیہ دنوں میں کشمیر کی سرحد اور پاکستان کے علاقوں میں ڈرون کی گردش میں یکایک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جمعہ کو بارڈر سکیورٹی فورس نے بین الاقوامی سرحد پر ہندوستانی علاقہ میں گھسنے کی کوشش پر مشتبہ پاکستانی جاسوس ڈرون کو فائرنگ کرکے روک دیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ ڈرون جموں کے مضافات میں صبح 4 بجکر 25 منٹ کے آس پاس ارنیا سیکٹر میں بی ایس ایف جوانوں نے دیکھا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ جب بارڈر گارڈس نے نصف درجن راؤنڈ فائر کرتے ہوئے ڈرون کو نیچے اُترنے پر مجبور کیا تو وہ پاکستانی علاقہ میں واپس ہوگیا۔ بی ایس ایف ترجمان نے کہاکہ یہ ڈرون علاقہ کی جاسوسی کے لئے بھیجا گیا تھا۔ جموں کے ایئر فورس اسٹیشن پر اتوار کے ڈرون واقعہ کے بعد سے جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسیس نہایت چوکس ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے جمعہ کو کہاکہ ایئر فورس اسٹیشن پر ڈرون حملے میں پاکستان کے رول کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ انتہا پسند گروپ لشکر طیبہ کی سرگرمیاں اُسی ملک سے جاری ہیں۔ دلباغ سنگھ نے کہاکہ پاکستان نشین دہشت گردوں کی جانب سے مسلح ڈرونس کا استعمال سکیورٹی سسٹم کے لئے نہایت سنگین خطرہ ہے اور کلیدی مقامات اور اشخاص کی سکیورٹی کے معاملہ میں نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمیں قوی اندیشہ ہے کہ اِس معاملہ میں لشکر طیبہ ملوث ہے۔ چونکہ لشکر طیبہ پاکستان سے کام کرنے والی تنظیم ہے اِس لئے پاکستان کا رول خارج ازامکان نہیں۔