l نیوزی لینڈ کی مساجد میں قتل عام کاسانحہ افسوسناک l اسلام سلامتی کا مذہب ، صلہ رحمی اور رواداری کا درس : امام حرم
l استنبول میں مسلم وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس l امن و امان انسانی زندگی کی بقاء کیلئے ضروری
جدہ۔ 23 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) او آئی سی کے سکریٹری جنرل یوسف العثیمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسلام فوبیا یا نفرت پھیلانے کے عمل کو نہ روکا گیا توانارکی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور مخالف اسلام طاقتوں کو مہنگی پڑے گی ۔ وہ استنبول میں مسلم وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ اجلاس ترکی کی درخواست پر نیوزی لینڈ کی مساجد میں نمازیوں کے قتل عام کے سانحہ کے تناظر میں منعقد ہوا۔ العثیمین نے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا عمل دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ دائیں بازوکی انتہا پسند جماعتیں بلکہ سرکاری ادارے اسلام فوبیا کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ اس قسم کی جماعتوں کی تعداد بے نظیر شکل میں بڑھ رہی ہے۔سبق ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ دائیں بازو کے انتہا پسندانہ افکار پر مبنی نفرت کے بیانیے کا ہدف صرف اسلام اور اسکے پیرو کار نہیں بلکہ یہ ڈیموکریٹک لبرل مغربی ممالک او رسسٹم کو بھی نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن مسلم ممالک کے درمیان مثبت تعاون انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے میں معاون بنے گا۔مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی نے کہا ہے کہ اسلام تشدد، رنگ ، نسل ، قومیت یا ملت کی بنیاد پر اشتعال انگیزی کا مخالف ہے۔ یہ ساری شکلیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ہیں۔ تمام آسمانی مذاہب اور صالح عقل کے مالک لوگ ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ تشدد اور اشتعال انگیزی کے بیانیوں سے معاشرے میں انارکی پھیلتی ہے۔ انارکی کے باعث حرمتیں پامال ہوتی ہیں۔ امن اور سلامتی سے محبت، مودت اور لوگوں کے درمیان تعاون برپا ہوتا ہے۔ امن و امان کے ماحول میں تعمیر و ترقی کے کام انجام دیئے جاتے ہیں۔ ہر قوم اپنے وطن کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کوشاں رہتی ہے لہذا دنیا بھر کے معاشروں کے حالات امن و امان کے بغیر بہتر نہیں ہوسکتے۔
وہ ایمان افروز روحانی ماحول میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ امام حرم نے بتایا کہ ’’السلام‘‘ ہمارے بابا آدم علیہ السلام اور انکے بعد آنے والے نبیوں کا سلام ہے۔ فرشتے بھی جنت میں اہل ایمان کا خیر مقدم ’’السلام‘‘ ہی سے کریں گے۔ اہل جنت اپنے رب سے ملاقات کے موقع پر السلام ہی سے اللہ کو مخاطب کریں گے۔ امام حرم نے بتایا کہ ’’السلام‘‘ بہت سارے پیارے معنوں پر مشتمل ہے۔ یہ بندگان خدا کے درمیان پاکیزہ مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ السلام کی بدولت لوگ ایک دوسرے کے دلوں میں جگہ بنا پاتے ہیں۔ السلام اہل ایمان کو صف بستہ کرتا ہے اسی لئے اسے ایمان کی علامت اور اہل اسلام کے درمیان ملاقا ت کے موقع پر خیر مقدمی کلمہ قرار دیا گیا ہے۔ امام حرم نے بتایا کہ اسلام رحمدلی، نرمی ، روا داری اور سلامتی کا مذہب ہے۔ یہ لوگوں کو جوڑنے والا مذہب ہے۔ اسی لئے اسلام نے 5امو رکو ضروری قرار دیا ہے او رانکی حفاظت و نگہداشت کا حکم دیا ہے۔ اسلام اپنے پیرو کاروںکو دین ، جان ، عقل ، دولت اور نفس کی حفاظت کا حکم دیتا ہے لہذا کوئی بھی شخص کسی پر ناحق حملہ کرنے کا مجاز نہیں۔ کوئی بھی شخص کسی کی آبرو ، کسی کی دولت میں ناحق تصرف کا حق نہیں رکھتا۔ دوسری جانب مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ عبداللہ البعیجان نے امن و امام کے موضوع پر کہا کہ امن و امان انسانی زندگی کی بقا ء کیلئے اشد ضروری ہے۔ امن و امام کی بدولت معاشروں میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کا ہر معاشرہ امن و امان کیلئے کوشاں رہتا ہے۔