جامعہ نظامیہ کا سالانہ جلسہ تقسیم اسنادو عرس شیخ الاسلامؒ، مولانا مفتی خلیل احمد اور ڈاکٹر محمد سیف اللہ کا خطاب
حیدرآباد: 22؍نومبر (پریس نوٹ) جامعہ نظامیہ سرزمین ہندوستان میں علم وعرفان کا مرکز اور اسلام کی پندرہ سو سالہ تعلیمی روایات کا امین ہے۔ ساتھ ہی سوادِاعظم اہلِ سنت وجماعت کا حقیقی ترجمان، قرآنی تعلیمات ‘ نبوی احکامات اور فقہ اسلامی کا گہوارہ ہے۔جامعہ نظامیہ کوامام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اشارہ منامی پر عارف باللہ شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقیؒ نے سنہ 1292 ہجری مطابق 1874 عیسوی میں تقوی و توکل کی اساس پر فروغ علوم نبویہ اور تحفظ مسلک حقہ کیلئے قائم فرمایا۔ علماء کو زمانہ کے چیالنجس سے بخوبی واقف ہونا ضروری ہے نیز دنیا بھر میں مذہب اسلام کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا علماء کا فریضہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی خلیل احمد امیر جامعہ جامعہ نظامیہ اور مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ شیخ الجامعہ نے کیا۔ اس علمی پروگرام کی صدارت امیر جامعہ نظامیہ نے کی۔ حضرت شیخ الجامعہ کی جانب سے تعلیمی رپورٹ نیابۃً مولانا حافظ مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی نے پیش کی۔ انہوں نے اعداد و شمار کے ذریعہ واضح کیا کہ تعلیمی سال 1445-46ھ میں جامعہ نظامیہ میں شریک امیدواروں کی جملہ تعداد 10289 رہی جبکہ امتحانات مولوی تا کامل میں شریک ہونے والے امیدوار 2763 ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند میں دینی تعلیم کا یہ سب سے بڑا کارواں ہے جو نہایت خاموشی کے ساتھ اپنے نصب العین پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال حال جامعہ نظامیہ اور ملحقہ مدارس کے 330 حفاظ کو سند دی جارہی ہے۔معتمد جامعہ نظامیہ مولوی احمد محی الدین خان نے مالیہ رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کسی سرکاری یا بیرونی امداد کے بغیر اہل خیر حضرات کے مخلصانہ تعاون اور جامعہ نظامیہ کی محدود جائیدادوں کی آمدنی سے علمی پروجیکٹس مکمل کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے فوائد کو استعمال کرتے ہوئے جامعہ نظامیہ کے کئی شعبوں کو عصری انداز میں ترقی دی جاری ہے۔ مولانا ڈاکٹر غلام خواجہ سیف اللہ نے تذکرۂ حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کے عنوان پر خطاب کیا اور حضرت بانی جامعہ کی عبقری شخصیت کے اہم پہلو ذکر کئے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت بانی جامعہ نظامیہ کی خدمات سے ایک زمانہ نے استفادہ کیا ہے۔ 212 فاضلین اور 330 حفاظ کی بدست شیوخ کرام دستار بندی کی گئی اور خلعت عطا کی گئی۔ مولانا مفتی خلیل احمد کے دست مبارک سے اسناد تقسیم کئے گئے۔ مولانا ڈاکٹر محمد عبد المجید کے دست مبارک سے انعامات اور مولانا سید شاہ ظہیر الدین علی صوفی کے دست مبارک سے امتیازی کامیاب طلبا کو گولڈ میڈل تقسیم کئے گئے ۔ طالبات کے گولڈ میڈل کلیۃ البنات کے جلسہ میں تقسیم کئے جائیں گے۔ مولانا محمد انوار احمد مراقب الاختبارات نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ جلسہ میں ملک کی مختلف ریاستوں سے جامعہ نظامیہ کے فارغین علماء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مولوی احمد محی الدین خان معتمد نے شکریہ ادا کیا اور طلبائے جامعہ کے قصیدہ بردہ پر محفل کا اختتام عمل میں آیا۔