نئی دہلی۔12 مارچ (یو این آئی) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عدالت عظمیٰ میں ایک غیر معروف تنظیم نیا ناری فاؤنڈیشن کی جانب سے کئے گئے اس شر انگیز مطالبہ کو کہ اسلام کے قانون وراثت کو کالعدم قرار دیا جائے ، اس لئے کہ وہ مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے کو غلط اور مذہبی آزادی کی آئینی دفعہ 25 کے منافی سمجھتا ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ بمبئی ہائی کورٹ نے نارسوایا ماپی کیس کے اپنے مشہور فیصلہ میں واضح طور پر کہا تھا کہ پرسنل لاز کو آئینی جانچ کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا۔ اسی طرح یہ کہنا کہ اسلام کا قانون وراثت لازمی مذہبی عمل نہیں ہے ، شریعت کے عائلی قوانین کی مذہبی حیثیت سے لاعلمی کا مظہر ہے ۔ اسلام کے عائلی قوانین براہ راست قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں اور اس پر سختی سے عمل کرنامسلمانوں کے لئے لازمی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ اسلام کے وراثتی قوانین میں مسلم خواتین کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے ، دراصل قانون شریعت کی حکمت سے عدم واقفیت ہے ۔