اسمارٹ سٹیز کریم نگر اور گریٹر ورنگل پر خطرے کے بادل

   

Ferty9 Clinic


اپنے حصہ کے فنڈز جاری نہ کرنے پر پراجکٹس منسوخ کرنے کا انتباہ، مرکز کا حکومت تلنگانہ کو مکتوب
حیدرآباد :۔ ریاست تلنگانہ کے دو شہر گریٹر ورنگل اور کریم نگر کے اسمارٹ سٹی پراجکٹس پر سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں ۔ ریاستی حصہ کے طور پر تلنگانہ حکومت نے ایک روپیہ بھی مختص نہیں کیا جس کا مرکزی حکومت نے سخت نوٹ لیا ہے اور مرکزی حکومت کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ریاستی حکومت کو دلچسپی نہیں ہے تو مرکزی حکومت اسمارٹ سٹیز کی فہرست سے ان دونوں شہروں کے نام حذف کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے مرکزی محکمہ ہاوزنگ و شہری امور نے یہ بات بتائی ہے ۔ بصورت دیگر مرکزی حکومت نے ان دو اسمارٹ شہروں کے لیے فنڈز جاری کیا ہے اس کو لوٹا دینے پر بھی زور دیا گیا ہے ۔ 4 جون کو یہ مکتوب چیف سکریٹری سومیش کمار کو وصول ہوا ہے ۔ مرکزی حکومت نے ورنگل اور کریم نگر کو اسمارٹ سٹیز کے طور پر ترقی دینے کے لیے 196 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں ۔ اتنا ہی میاچنگ گرانٹ ریاستی حکومت کو جاری کرنا ہے لیکن ریاستی حکومت نے ابھی تک ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا ہے ۔ اسمارٹ سٹی میشن کے رہنمایانہ خطوط کے پیش نظر مرکز کی جانب سے جاری کردہ فنڈز اندرون ایک سال خرچ کرنا ہے اور تمام فنڈز متعلقہ پراجکٹس کو جاری کرنے کے ساتھ اتنا ہی میاچنگ فنڈس اپنی طرف سے خرچ کرنا ہے ۔ سال 2016 مئی میں مرکزی حکومت نے گریٹر ورنگل اور اگسٹ میں کریم نگر کو اسمارٹ سٹیز کے فہرست میں شامل کیا تھا ۔ گریٹر ورنگل کے اسمارٹ سٹی پراجکٹ کا تخمینہ 2350 کروڑ روپئے مشتمل تیار کیا تھا ۔ 17 نومبر 2017 کو کاموں کا آغاز ہوا جملہ 94 پراجکٹس ہیں جملہ 17 پراجکٹس کے کام مکمل ہوئے جن پر 61.35 کروڑ روپئے خرچ ہوئے ۔ 32 پراجکٹس کے کاموں کی پیشرفت جاری ہے ۔ جس کے لیے 1,271 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے ۔ ٹنڈرس کے مرحلے میں 14 پراجکٹس ہیں جس کا تخمینہ 359 کروڑ تیار کیا گیا ہے ۔ 14 پراجکٹس کے ڈی پی آر تیار ہوچکے ہیں جن کا تخمینہ 66.12 کروڑ ہے ۔ 17 پراجکٹس کے ڈی پی آر تیار ہورہے ہیں جن کا تخمینہ 592 کروڑ ہیں ۔ 31 مارچ 2017 کو کریم نگر اسمارٹ سٹی کے کاموں کا آغاز ہوا جس کا تخمینہ 1878 کروڑ ہے ۔ ریٹرو فیسنگ کاموں کے لیے 267 کروڑ ، سیاحتی مراکز کی ترقی کے لیے 76 کروڑ ، ٹرانسپورٹ کی ترقی کے لیے 337 کروڑ ، بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے 540 کروڑ برقی نظام کو باقاعدہ بنانے کے ساتھ ترقی دینے کے لیے 83 کروڑ ، دوسری ضرورتوں کے لیے 110 کروڑ انٹلی جنٹ ٹرانسپورٹ کے لیے 226 کروڑ ، بلاوقفہ پانی کی سربراہی کے لیے 140 کروڑ ، اسمارٹ تعلیمی نظام کے لیے 15 کروڑ اسمارٹ گورننس کے لیے 36 کروڑ دوسری ضروریات کے لیے 22 کروڑ شامل ہیں ۔ پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق ارون دکمار نے کہا کہ وعدے کے مطابق چیف منسٹر کے سی آر نے کافی فنڈز جاری کئے ہیں ۔ جس مکتوب کا حوالہ دیا جارہا ہے ۔ وہ قدیم ہے ۔ کاموں کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت فنڈز جاری کررہی ہے ۔ مرکزی حکومت دونوں اسمارٹ سٹیز کے لیے 196 کروڑ روپئے جاری کرنے کا دعویٰ کررہی ہے ۔ مگر اسمارٹ سٹی کے کھاتے میں صرف 138 کروڑ روپئے جمع ہوئے ہیں مزید 58 کروڑ روپئے جمع ہونا باقی ہے ۔۔