اسمارٹ فون ، سماجی بگاڑ کے ساتھ ہلاکت کا بھی سبب

   

بچی کی خواہش کی عدم تکمیل نے والدین کو عمر بھر کا غم حوالے کردیا
حیدرآباد۔ اسمارٹ فون معاشرہ میں بگاڑ کے ساتھ نوجوان نسل کی ہلاکت کا سبب بھی بن رہا ہے۔ ضلع وقارآباد کے دوما منڈل میں اس طرح کا ایک دلسوز واقعہ پیش آیا جہاں 17 سالہ لڑکی مسکان نے خودکشی کرلی۔ لڑکی اسمارٹ فون کی خواہشمند تھی تاہم اسمارٹ فون کا حصول والدین کیلئے مشکل تھا۔ اپنی لخت جگر کی خواہش پوری کرنے کیلئے ماں باپ تیار تھے لیکن رقم کیلئے کچھ وقت درکار تھا لیکن لڑکی ماں باپ کی مجبوری کو سمجھ نہیں پائی اور تعطل سے دلبرداشتہ ہوگئی۔ جمعرات کے دن اس لڑکی نے نامعلوم دوا کا استعمال کرتے ہوئے خودکشی کرلی۔ مسکان کے والدین پولٹری فارم میں مزدوری کرتے ہیں۔ اس کے والدین غلام محمد اور شاہین کا تعلق ریاست مہاراشٹرا کے ناندیڑ ضلع سے بتایا گیا ہے۔ یہ خاندان روزگار کی تلاش میں تین سال قبل نقل مقام کرتے ہوئے وقارآباد پہنچا اور منڈل دوما کے راسم پلی گاؤں کے ایک پولٹری فارم میں انہیں مزدوری مل گئی۔ غلام محمد اپنی بیوی اور دو بچے ایک لڑکا اور ایک لڑکی مسکان کے ساتھ زندگی بسر کررہے تھے۔ مسکان نے اپنے والدین سے اسمارٹ فون کی خواہش کی تھی جس پر اس کے والدین نے اپنی بچی کو فون دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم والدین سے کی گئی خواہش کی فوری تکمیل نہ ہونے سے لڑکی دلبرداشتہ ہوگئی اور اس نے انتہائی اقدام کرلیا۔ بچی کی خواہش کی عدم تکمیل نے والدین کو عمر بھر کا غم حوالے کردیا۔