اسمارٹ میٹرز کیخلاف احتجاج اور لاٹھی چارج

   

جموں: جموں وکشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں چہارشنبہ کے روز اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس نے مبینہ طورپر لاٹھی چارج کیا جبکہ ایک درجن کے قریب افراد کو احتیاطی طورپر حراست میں لیا گیا۔تحصیلدار جموں نے بتایا کہ توی پل کے نزدیک مظاہرین نے دھرنا دیا جس وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کررہ گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ پر امن احتجاج کریں لیکن کسی کوسڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔چہارشنبہ کے روز تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق جموں میں اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے خلاف مرد و زن نے احتجاج کیا۔معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جوں ہی توی پل کی اور پیش قدمی شروع کی تو پولیس نے انہیں راستے میں روکا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس نے مردو زن پر نہ صرف لاٹھی چارج کیا بلکہ ایک درجن کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا ۔مظاہرین کے مطابق آئین ہند میں ہر کسی کو پر امن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے لیکن جموں کے لوگوں سے یہ حق چھینا جا رہا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اسمارٹ میٹرز کے حساب سے بجلی فیس ادا کرسکیں۔