پرانے شہر میں میٹرو ٹرین کے لیے حصول جائیداد کے اقدامات پھر ایکبار نظر انداز
حیدرآباد۔16جون(سیاست نیوز) پرانے شہر میں حیدرآباد میٹرو ریل اب بھی ایک سراب ہے! مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور حیدرآباد میٹرو ریل کی جانب سے دارالشفاء تا فلک نما جائیدادوں کے حصول کے لئے کئے جانے والے اقدامات کا ابھی تک آغاز نہ کئے جانے کے سبب عہدیداروں میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ پرانے شہر میں میٹرو پہنچے گی یا نہیںاور اگر نہیں پہنچے گی توچند ماہ قبل منعقد ہوئے اسمبلی انتخابات سے قبل کئے جانے والے اعلانا ت کیا محض سیاسی حکمت عملی کا حصہ تھے ! جی ایچ ایم سی کی جانب سے حصول جائیداد کیلئے نوٹس کی اجرائی کے عمل تک یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ پرانے شہر میں میٹرو کے تعمیراتی کام حقیقت میں شروع ہونے جا رہے ہیں کیونکہ عہدیداروں کا کہناہے کہ جب تک جائیدادوں کا حصول شروع نہیں کیاجائے گا اس وقت تک تعمیری کاموں کی حکمت عملی تیار کرنا انتہائی دشوار کن ہے۔ مسجد حاجی کمال مسلم جنگ کا پل کے عقب تک حیدرآباد میٹرو ریل کے پلر کی تعمیر کے بعد یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ پلر دارالشفاء سے گذریں گے لیکن اب یہ کہا جارہاہے کہ ابھی دارالشفاء سے منڈی میر عالم‘ کوٹلہ عالیجاہ‘ اعتبار چوک‘ پرانی حویلی ‘ مغلپورہ ‘ ہری باؤلی چوراہا‘ شاہ علی بنڈہ ‘ سید علی چبوترہ‘ شمشیر گنج اور فلک نما سڑک پر متاثر ہونے والی جائیدادوں کو حصول جائیداد کی نوٹس جاری نہیں کی گئی جس کے سبب حیدرآباد میٹرو ریل کے تعمیری کام انجام دینے والی کمپنی لارسن اینڈ ٹربو کی جانب سے پرانے شہر میں تعمیری کاموں کو شروع کرنے کی قطعی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ اس راہداری پر کاموں کے آغاز کے زبانی احکام کے بعد سے اب تک دو جائزہ اجلاس منعقد کئے جا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود حصول جائیداد کے لئے نوٹسوں کی اجرائی کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے بلکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے دفتر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس جائیداد کو حیدرآباد میٹرو ریل کے حوالہ کرنے کے احکام جاری کئے گئے ہیں لیکن اس میں بھی اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوپائی ہے جس کے نتیجہ میں عہدیدارخدشات کا شکار ہونے لگے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ جب جی ایچ ایم سی کی جانب سے اپنی ہی جائیداد کے حصول میں اتنی تاخیر کی جارہی ہے تو خانگی جائیدادوں کے حصول کے لئے اقدامات کو کس طرح تیز کیا جائے گا۔ جی ایچ ایم سی میں برسر خدمت ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات سے قبل کئے گئے اعلانات کے مطابق پرانے شہر میں اب تک حیدرآباد میٹرو ریل کے کاموں کی شروعات ہوجانی چاہئے تھی لیکن اب جو صورتحال ہے اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہاہے کہ پرانے شہر میں میٹرو ریل کی آمد میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے کیونکہ پرانے شہر میں میٹرو کے آغاز کیلئے اب دوبارہ دباؤ بنانے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
