بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت کے بعد کئی قائدین سیاسی طور پر بے روزگار
حیدرآباد۔16جولائی(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں سیاسی جماعتیں نئے چہروں کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینے کے بجائے تجربہ کار اور معروف سیاستدانوں کو میدان میں اتارنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ ریاست تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات میں اب تک سہ رخی مقابلہ کے امکانات ظاہر کئے جا رہے تھے لیکن اب ریاست میں کانگریس اور بھارت راشٹرسمیتی کے درمیان راست مقابلہ کے حالات پیدا ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی میدان میں برقرار رہنے کا دعویٰ کررہی ہے جبکہ بھارت راشٹرسمیتی اپنے امیدواروں کو قطعیت دیتے ہوئے اس کا اعلان کرنے کے بجائے کانگریس کے امیدواروں کی فہرست کے اعلان کا انتظار کر رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ریاست میں کانگریس کی فہرست کے اعلان کے بعد ہی بھارت راشٹرسمیتی اپنے قائدین کے ہمراہ قطعی مشاورت کرتے ہوئے امیدوار کا اعلان کرے گی۔ بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان جاری اس رسہ کشی کو دیکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی بھی پرامید ہورہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں میں اگر تجربہ کار قدآور سیاسی قائدین کو ٹکٹ نہیں دیا جاتا ہے تو وہ اپنی وفاداریاں تبدیل کرسکتے ہیں اسی لئے بیشتر تمام سیاسی جماعتیں امیدوار کے اعلان کے بجائے ناراض قائدین اور سرکردہ قائدین کی اپنی پارٹی میں شمولیت کے متعلق غور کر رہی ہیں۔کانگریس قائدین کا کہناہے کہ بی آر ایس میں ٹکٹ سے محروم ہونے والے قائدین کے لئے کانگریس میں جگہ ہوگی یا نہیں اس کا فیصلہ ان قائدین کی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر کیا جائے گا لیکن بیشتر قائدین جو ٹکٹ سے محروم ہونے کے خدشات کے سبب کانگریس قائدین سے رابطہ میں ہیں ان پر یہ واضح کیا جا رہاہے کہ ان حلقہ جات میں جہاں کانگریس کے مضبوط امیدوار موجود ہیں ان کے خلاف ٹکٹ حاصل ہونے کی توقع نہ رکھیں جبکہ بھارت راشٹرسمیتی دیگر سیاسی جماعتوں میں موجود امکانی باغیوں کو اپنے امیدواروں کو تبدیل کرتے ہوئے انہیں ٹکٹ دیئے جانے کا لالچ دیتے ہوئے انہیں بی آر ایس میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاست میں برسراقتدار سیاسی جماعت کانگریس کے ان قائدین کو اپنی پارٹی میں شامل کروانے کی کوشش کر رہی ہے جو پارٹی میں ٹکٹ سے محرومی کے خدشات کے سبب دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ کرناٹک انتخابات سے قبل ریاست تلنگانہ میں بی آر ایس کا متبادل بی جے پی کو تصورکیا جارہا تھا اور بی آر ایس سے ٹکٹ حاصل نہ ہونے کی صورت میں بی آر ایس قائدین بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے لیکن اب جو صورتحال ہے وہ یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو سرکردہ ‘ عوام میں مقبول اور انتخابات میں حصہ لینے کا تجربہ رکھنے والے سیاسی قائدین کی ضرورت محسوس ہورہی ہے کیونکہ بی آر ایس میں ٹکٹ کے دعویداروں کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر ناراضگی پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں اور اب کانگریس میں بھی ایک نشست پر کئی دعویدار ہوچکے ہیں ایسے میں پارٹی نے قطعی فیصلہ کرتے ہوئے عوامی مقبولیت کی بنیاد پر امیدواروں کے انتخاب کا اعلان کردیا ہے لیکن بی آر ایس اس عمل سے گذرنے کے لئے آمادہ نہیں ہے کیونکہ بی آر ایس قائدین اقتدار میں ہونے کے سبب عوام میں مقبول تو ہیں لیکن ساتھ میں ان کی بدعنوانیوں کے سبب عوام انہیں پسند نہیں کر رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جس کے پاس انتخابات میں اتارنے کے لئے امیدوار تک نہیں تھے اب دوبارہ وہیں پہنچ چکی ہے جہاں سے تلنگانہ میں بی جے پی کے سفر کا آغاز ہوا تھا ۔ تلنگانہ میں بی جے پی برسراقتدار بھارت راشٹرسمیتی کے ناراض قائدین کے لئے اپنے دروازے کھولے ہوئے انتظار کر رہی تھی لیکن اب دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان خفیہ مفاہمت کی اطلاعات نے ریاست کے کئی سیاسی قائدین کو جو آئندہ انتخابات سے قبل بے روزگار ہونے والے تھے انہیں قبل ازوقت بے روزگار کردیا ہے کیونکہ بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان اتحاد کی اطلاعات کے بعد تلنگانہ میں بی جے پی کو عوام میں مقبول امیدوار حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے جبکہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے قائدین کے سواء بی جے پی کے پاس کوئی ایجنڈہ نہیں ہوگا ۔ کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کو پارٹی یا پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے ان کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود ریاست کے تمام اضلاع سے قائدین کانگریس پارٹی میں شمولیت کے لئے آمادگی ظاہر کر رہے ہیں جو کہ ریاست میں بی آر ایس کے لئے مشکل حالات پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے اسی لئے بی آر ایس اور بی جے پی دونوں ہی سیاسی جماعتیں سرکردہ چہروں کو پارٹی میں شامل کروانے کی کوششوں کا آغاز کرچکی ہیں جبکہ کانگریس نے بی آر ایس سے علحدگی اختیار کرنے والے سرکردہ اور بااثر قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے کا آغاز کردیا ہے اورآئندہ چند یوم کے دوران مزید کئی قائدین کو پارٹی میں شامل کروانے کے سلسلہ میں کانگریس قائدین کو شاں ہیں جبکہ چیف منسٹر تلنگانہ و سربراہ بھارت راشٹر سمیتی نے بھی اپنے قائدین و قریبی رفقاء کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت میں موجود عوام میں مقبول سیاسی قائدین کو پارٹی میں شامل کروانے کی کوششوں کا آغاز کردیں تاکہ ریاست میں عوام کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ ریاستی حکومت پر سرکردہ سیاستدانوں کا اعتماد برقرارہے۔م