دلت بندھو طرز کی گریجن بندھو اسکیم پر غور، غریبوں کو تعمیر امکنہ کیلئے 3 لاکھ کی امداد، کے سی آر کی قائدین سے مشاورت
حیدرآباد۔/20 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کے آئندہ سال انتخابات کی تیاریوں کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مختلف طبقات کیلئے فلاحی اسکیمات کے آغاز کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ کمزور اور پسماندہ طبقات کی تائید سے اقتدار کی ہیٹ ٹرک کی جاسکے۔ بی جے پی سے بڑھتے تناؤ کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پارٹی قائدین کے اجلاس میں واضح کیا کہ بی جے پی کی سرگرمیاں ٹی آر ایس کے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت تلنگانہ میں تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ وقتی طور پر ٹی آر ایس قائدین کو ہراساں کرسکتی ہیں لیکن ووٹ حاصل کرنے کیلئے ان کے پاس فلاحی اسکیمات موجود نہیں ہیں۔ چیف منسٹر نے پارٹی قائدین سے کہا کہ جنوری میں بعض نئی فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا جائے گا۔ خاص طور پر درج فہرست اقوام کی طرز پر درج فہرست قبائیل کیلئے دلت بندھو کی طرح اسکیم متعارف کی جاسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے گریجن بندھو اسکیم کے سلسلہ میں بجٹ کی فراہمی اور دیگر اُمور کے بارے میں تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ چیف منسٹر نے 18 جنوری سے عوام کی آنکھوں کی نگہداشت سے متعلق کنٹی ویلگو اسکیم کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ غریب طبقات کو مکانات کی تعمیر کیلئے 3 لاکھ روپئے کی فراہمی سے متعلق اسکیم کے آغاز کا جائزہ لیا جائے۔ گذشتہ تین برسوں سے عوام کو اسکیم پر عمل آوری کا انتظار ہے۔ کے سی آر نے اراضی رکھنے والے غریب خاندانوں کو اس اسکیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیم پر عمل آوری میں بعض دشواریوں کو دیکھتے ہوئے اراضی رکھنے والے خاندانوں کی امداد پر غور کیا جارہا ہے تاکہ انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل کے الزام سے بچ سکیں۔ درج فہرست اقوام کیلئے تحفظات کو 15 فیصد اور درج فہرست قبائیل کیلئے 10 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریجن بندھو اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی جائے گی۔ دلت بندھو کی طرح یہ امدادی رقم کسی کاروبار یا ضروری اشیاء کی خریدی میں مشغول کی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر نے 2018 میں غریبوں کو مکانات کی تعمیر کیلئے امداد کا وعدہ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ گریجن بندھو اسکیم ریاست کے 12 اسمبلی حلقہ جات میں تجرباتی طور پر شروع کی جائے گی۔ ریاست میں ایس ٹی طبقہ کیلئے محفوظ اسمبلی حلقہ جات میں اسکیم کا آغاز ہوگا۔ اسمبلی کی 119 نشستوں میں 31 محفوظ ہیں ان میں سے 19 ایس سی اور 12 ایس ٹی طبقات کیلئے مختص ہیں۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ ایس سی، ایس ٹی طبقات کو ٹی آر ایس کے مضبوط ووٹ بینک میں تبدیل کیا جائے۔ر