اسمبلی انتخابات ‘کے سی آر گجویل و کاماریڈی دو حلقوں سے مقابلہ کرینگے

,

   

115 اسمبلی حلقہ جات کے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری ، 7 موجودہ ارکان اسمبلی ٹکٹ سے محروم ‘ چار حلقوں کے نام زیرالتواء
بی آر ایس 95 تا 105 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے مسلسل تیری مرتبہ حکومت تشکیل دی گی : چیف منسٹر کے سی آر کا دعوی
حیدرآباد 21 اگست ( سیاست نیوز) سربراہ بی آر ایس و چیف منسٹر کے سی آر نے اسمبلی انتخابات کیلئے 115 امیدواروں پر مشتمل بی آر ایس کی پہلی فہرست جاری کردی ۔ چیف منسٹر گجویل و کاماریڈی دو حلقوں سے مقابلہ کرینگے جبکہ 7 موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کیا گیا ہے ۔ 4 حلقوں کے امیدواروں کے اعلان کو زیرالتواء رکھا گیا ہے ۔ اسمبلی حلقہ بودھن سے عامر شکیل کو مسلسل تیسری مرتبہ امیدوار بنایا گیا ہے ۔ گزشتہ تین چار دن سے پارٹی امیدواروں کی فہرست کو قطعیت دینے کے بعد چیف منسٹر نے آج تلنگانہ بھون پہنچ میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیدواروں کا اعلان کردیا جس کے بعد ریاست کے مختلف مقامات پر بی آر ایس کارکنوں میں خوشی اور غم کی لہر دیکھنے کو ملی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ ریاست میں بی آر ایس 95 تا 105 حلقوں پر کامیابی حاصل کرکے مسلسل تیسری مرتبہ حکومت تشکیل دے گی ۔ حکومت کی کارکردگی اور عوام کے اطمینان کو دیکھتے ہوئے مقابلہ کرنے والوں کی اکثریت میں اضافہ ہوگیا ہے مگر پارٹی سب کو ٹکٹ نہیں دے سکتی لیکن پارٹی قائدین کی خدمات سے استفادہ کریگی ۔ ایم ایل سی ، راجیہ سبھا اور لوک سبھا انتخابات ہیں اور کارپویشنس کے عہدے ہیں پارٹی کے وفادارقائدین سے انصاف کیا جائے گا ۔ کسی بھی قائد کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ عوام سے رابطہ میں رہنے والے بیشتر ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دیا گیا ہے ۔ امیدواروں کی فہرست میں بڑی کوئی تبدیلی نہیں ہے ۔ اسمبلی حلقہ جات ویملواڑہ ، خانہ پور ، آصف آباد ، اپل ، کورٹلہ ، اسٹیشن گھن پور اور ویرا کے ارکان اسمبلی کو تبدیل کیا گیا ہے ۔ ماباقی تمام اسمبلی حلقوں پر موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دیا گیا ۔ گجویل کے علاوہ اسمبلی حلقہ کاماریڈی سے مقابلہ کی وجہ طلب کرنے پر چیف منسٹر نے کہا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ ہے اور ساتھ ہی کاماریڈی کے مقامی رکن اسمبلی کے علاوہ دوسروں نے بھی انہیں کاماریڈی سے مقابلہ کا مشورہ دیا ہے ۔ یہی نہیں دیگر حلقوں سے بھی ان پرمقابلہ کا دباؤ بنایا گیا تھا مگر پارٹی نے انہیں کاماریڈی سے مقابلہ کی ہدایت دی ہے جس کو وہ قبول کرچکے ہیں ۔ ان کی تاریخ سے شاید لوگ واقف نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بھی وہ کریم نگر اور محبوب نگر سے مقابلہ کرکے کامیابی حاصل کرچکے ہیں ۔ کنٹونمنٹ حلقہ سے سابق آنجہانی رکن اسمبلی سائینا کی دختر ایل نندیتا کو امیدوار بنایا گیا ۔ اس طرح اسمبلی حلقہ کورٹلہ کے رکن اسمبلی ودیا ساگر راؤ نے اپنی ناسازی صحت کی وجہ سے فرزند کو ٹکٹ دینے کی اپیل کی تھی جس کو قبول کرکے ان کے فرزند ڈاکٹر سنجے کو امیدوار بنایا گیا ہے ۔ اسمبلی حلقہ اسٹیشن گھن پور سے راجیا کے بجائے سابق ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کو امیدوار بنایا گیا ہے ۔ اسمبلی حلقہ حضورآباد سے رکن کونسل بی کوشک ریڈی کو امیدوار بنایا گیا ۔ شہر میں اسمبلی حلقہ بہادر پورہ سے عنایت علی باقری ، اسمبلی حلقہ چارمینار سے ابراہیم لودھی ، اسمبلی حلقہ چندرائن گٹہ ایم سیتا رام ریڈی ، اسمبلی حلقہ کاروان سے اے کرشنیا کو امیدوار بنایا گیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ چار اسمبلی حلقوں نرسا پور ، جنگاؤں ، نامپلی اور گوشہ محل کے امیدواروں کے اعلان کو زیرالتواء رکھا گیا ہے ۔ امیدواروں کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے جس کا چار تا پانچ دن میں اعلان کردیا جائیگا۔ حلقہ اپل کے رکن اسمبلی سبھاش ریڈی ، اسمبلی حلقہ بوتھ راتھوڑ باپو راؤ ، اسمبلی حلقہ خانہ پور ریکھا نائیک ، اسمبلی حلقہ آصف آباد اے سکو اسمبلی حلقہ ویرا راملو نائیک اسمبلی حلقہ کاماریڈی گمپا گووردھن ریڈی اسمبلی حلقہ اسٹیشن گھن پور راجیا کو ٹکٹ سے محروم کیا گیا ہے ۔ اسمبلی حلقہ ویملواڑہ سے بھی رمیش کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ان کی جگہ سی لکشمی نرسمہا راؤ کو ٹکٹ دیا گیا ۔ بی آر ایس رکن اسمبلی ایم ہنمنت راؤ کی جانب سے پارٹی اور ہریش راؤ پر تنقید کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ ایم ہنمنت راؤ کو اسمبلی حلقہ چیوڑلہ سے امیدوار بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے اپنے فرزند روہت کیلئے اسمبلی حلقہ میدک سے ٹکٹ طلب کیا تھا جو ممکن نہیں تھا ۔ اب ہنمنت راؤ مقابلہ کرتے ہیں یا نہیں یہ ان کی مرضی ہے ۔ پارٹی کے فیصلہ پر قائم رہتے یا نہیں اس کا فیصلہ ہنمنت راؤ کو کرنا ہے ۔ ن