ڈاکٹر جی چناریڈی کا ریمارک، کالیشورم پراجیکٹ کی تکمیل میں ہریش رائو کی دن رات محنت
حیدرآباد۔ 20 جون (سیاست نیوز) سابق وزیر اور اے آئی سی سی سکریٹری جی چناریڈی نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ ایک ملک ایک الیکشن کا نعرہ لگانے والے نریندر مودی نے تلنگانہ میں اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات کی اجازت کیوں دی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر چناریڈی نے کہا کہ کے سی آر کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے نریندر مودی نے اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملک ایک الیکشن کی تجویز سے عوام پر کئی ہزار کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام اس تجویز کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ چنا ریڈی نے بی جے پی اور ٹی آر ایس پر یکساں انتخابات کے سلسلہ میں مشترکہ موقف اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ اسمبلی اور سکریٹریٹ کی نئی عمارتوں کی تعمیر سے متعلق حکومت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر چناریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے پہلی میعاد میں جمخانہ کے بائسن پولو گرائونڈ پر سکریٹریٹ کے نئے کامپلکس کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ حصول اراضی کے لیے مرکز سے مشاورت بھی کی گئی لیکن 5 سال میں یہ ممکن نہ ہوسکا، اس کے بعد کے سی آر موجودہ سکریٹریٹ کے مقام پر نئی عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر چنا ریڈی نے ریمارک کیا کہ اسمبلی اور سکریٹریٹ کی نئی عمارتوں کی تعمیر دراصل اس محاورے کی طرح ہے ’’کام نہیں سو حجام بلی کا سر مونڈا‘‘ کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اپنے غیردانشمندانہ فیصلوں کے ذریعہ عوام پر بھاری بوجھ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجیکٹ کے نام پر کے سی آر ملک بھر میں اپنی شہرت میں اضافہ چاہتے ہیں۔ پراجیکٹ کی تکمیل کے ساتھ ہی ان کی سرگرمیاں باعث حیرت ہیں۔ انہوں نے کے سی آر سے سوال کیا کہ سابق میں پراجیکٹ کے لیے دن رات محنت کرنے والے ہریش رائو کو افتتاحی تقریب میں مدعو کیا جائے گا یا نہیں، اس کی وضاحت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہریش رائو نے اس پراجیکٹ کے لیے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کیئے تھے لیکن اب کے سی آر اور کے ٹی آر اس پراجیکٹ کا سہرا اپنے سر ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو پی آر سی اور عبوری راحت کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت کو اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہیلتھ کارڈ بے فیض ہوچکے ہیں۔
