اسمبلی اور پارلیمنٹ میں کسانوں کے مسائل موضوع بحث بنانے کا فیصلہ

   

Ferty9 Clinic

گاندھی بھون میں اجلاس، اتم کمار ریڈی، بھٹی وکرامارکا اور دیگر کی شرکت

حیدرآباد۔/29 فبروری ، ( سیاست نیوز) ریاست میں کسانوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کیلئے گاندھی بھون میں صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے پارٹی قائدین کا اجلاس طلب کیا۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، رکن اسمبلی جگا ریڈی، رکن کونسل جیون ریڈی، نائب صدرنشین آل انڈیا کسان کانگریس ایم کودنڈا ریڈی اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے کسانوں سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔ پارلیمنٹ ، اسمبلی اور کونسل کے اجلاس میں کسانوں کے مسائل کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اتم کمار ریڈی لوک سبھا میں کسانوں کے مسائل پر آواز اٹھائیں گے جبکہ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا کی قیادت میں کانگریس ارکان اسمبلی بجٹ سیشن میں احتجاج کریں گے۔ ٹی جیون ریڈی کونسل میں کسانوں کے مسائل کو موضوع بحث لاتے ہوئے حکومت کو انتخابی وعدوں کی یاددہانی کریں گے۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جگا ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے کسانوں کے قرض معافی اور رعیتو بندھو سے متعلق دو اہم وعدے کئے تھے لیکن دونوں وعدوں کی تکمیل میں حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس دور حکومت میں زرعی شعبہ کے مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس دور حکومت میں ملک بھر میں کسانوں کے نہ صرف قرض معاف کئے گئے بلکہ پیداوار پر امدادی قیمت ادا کی گئی۔ کے سی آر چیف منسٹر بننے کے بعد کسانوں کو ایک قسط میں قرض معافی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن بعد میں چھ اقساط تک توسیع کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو کے سی آر پر بھروسہ نہیں ہے اور وہ دن دور نہیں جب کسان ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں عوامی مسائل پر کانگریس اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔ جگاریڈی نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں میں دو مرتبہ کسان ٹی آر ایس حکومت سے دھوکہ کھاچکے ہیں۔اندرا گاندھی سے منموہن سنگھ کے دور تک کانگریس نے غریبوں میں اراضی تقسیم کی تھی لیکن ٹی آر ایس حکومت غریبوں کی اراضی چھیننے کی کوشش کررہی ہے۔ پارلیمنٹ، اسمبلی اور کونسل میں اس مسئلہ پر احتجاج کیا جائے گا اور غریبوں کی اراضیات کا تحفظ کانگریس کرے گی۔ جگا ریڈی نے کہا کہ کرن کمار ریڈی دور حکومت میں تالابوں کی صفائی کا منصوبہ تیار کیا گیا تاکہ زائد مقدار میں پانی کا ذخیرہ کیا جاسکے۔ٹی آر ایس نے اس پروگرام کو منسوخ کردیا جس کے نتیجہ میں ذخائر آب میں پانی کی گنجائش کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے 33 اضلاع میں کلکٹریٹس کے روبرو کسانوں کے ساتھ دھرنا منظم کیا جائے گا۔