اسمبلی حلقوں میں اضافہ کرنے کے معاملے میں مرکز کا تلگو ریاستوں کے ساتھ سوتیلا سلوک

   

Ferty9 Clinic

جموں کشمیر کے لیے ایک قانون ، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے لیے علحدہ قانون پر سوال
حیدرآباد ۔ 5 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : تقسیم آندھرا پردیش کے قانون کے سیکشن 26(1) میں اس بات کی صاف صاف وضاحت کردی گئی ہے کہ ریاست تلنگانہ میں موجود اسمبلی کی نشستوں کو 119 سے بڑھاکر 153 کردیا جائے اور ساتھ ہی آندھرا پردیش میں موجود اسمبلی حلقوں کو 175 سے بڑھاکر 225 کردیا جائے ۔ اس قانون میں اس بات کی بھی وضاحت کردی گئی تھی کہ دستور ہند کے آرٹیکل 170(3) کے لحاظ سے دونوں تلگو ریاستوںمیں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ سال 2026 میں جاری ہونے والی مردم شماری رپورٹ کے مطابق آبادی کے تناسب کو مد نظر رکھتے ہوئے اسمبلی کی از نو حد بندی کی سفارش کی گئی تھی ۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دستور کے آرٹیکل 170(3) آندھرا پردیش کی تقسیم سے متعلق سیکشن 26(1) بالکل غیر درست اور مخالف دستور ہے ۔ دستور میں ترمیم کے بغیر تلگو ریاستوں میں اسمبلی حلقوں میں اضافہ ممکن ہے ۔ اسی مسئلہ پر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر و رکن پارلیمنٹ اے ریونت ریڈی نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا تھا ۔ جس کی مرکزی مملکتی وزیر داخلہ نتیانند رائے نے وضاحت کردی تھی ۔ تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے سیاسی قائدین کا کہنا ہے کہ دستور میں ترمیم کے بغیر دونوں ریاستوں میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ ممکن ہے ۔ آندھرا پردیش تقسیم ریاست قانون سیکشن 26(1) کے آرٹیکل 170(3) کے تعلق کے بغیر بھی نشستوں کے اضافہ کے لفظ بھی بڑھا دینے سے بھی یہ ممکن ہے ۔ لیکن اٹارنی جنرل مکھل روہتگی نے دستور میں ترمیم کرنے کی رپورٹ پیش کی ہے ۔ تاہم مرکزی حکومت نے آرٹیکل 170(3) کو ترمیم کرنے سے اتفاق کیا ہے اور اس سلسلہ میں کابینی نوٹ بھی تیار کیا گیا ۔ مرکزی محکمہ داخلہ نے کابینی نوٹ پر رائے ظاہر کرنے کی سنٹرل الیکشن کمیشن سے اپیل کی ہے ۔ لیکن کابینی نوٹ پر سنٹرل الیکشن کمیشن نے اعتراض کیا ہے اور اس کو مرکزی حکومت کو واپس کردیا ۔ تلگو ریاستوں میں اسمبلی حلقوں میں اضافہ کرنے کے معاملے میں مرکزی حکومت کا تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے ۔ جموں کشمیر کے لیے ایک قانون اور تلگو ریاستوں کے ساتھ ایک قانون پر کیسے عمل کیا جاسکتا ہے ۔ تقسیم آندھرا پردیش کے قانون کے بغیر نشستوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ مرکزی کابینی نوٹ کو سنٹرل الیکشن کمیشن نے کیوں واپس کردیا اس پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔۔