اسمبلی مانسون سیشن…جھلکیاں

   


l کے سی آر نے اپوزیشن سے ملاقات نہیں کی
l قومی ترانہ سے کارروائی کا آغاز
l ہر پارٹی اپنی شناخت کے ساتھ
l 4پیانل اسپیکرس کا تقرر
l صرف 3 ارکان ماسک کے ساتھ
l کے ٹی آر ارکان کی توجہ کا مرکز
l اسمبلی کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات
l چیف منسٹر کی بی اے سی اجلاس میں عدم شرکت
حیدرآباد۔/6 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی مانسون سیشن کے آج پہلے دن ایوان میں کئی دلچسپ مناظر دیکھے گئے اور حکومت کی جانب سے اجلاس کے پہلے دن کی روایت سے انحراف کیا گیا۔ عام طور پر یہ روایت ہے کہ اسمبلی اجلاس کے پہلے دن چیف منسٹر جو قائد ایوان ہوتے ہیں کارروائی کے آغاز سے قبل ایوان میں پہنچ کر اپوزیشن کی بنچوں تک جاکر خیرسگالی ملاقات کرتے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ابتدائی دور میں اس روایت کو برقرار رکھا لیکن بعد میں وہ اپنی نشست تک محدود ہوگئے۔ کئی ریاستی وزراء ایوان میں اپوزیشن قائدین سے ملاقات کرتے رہے لیکن آج صورتحال مختلف تھی۔ اپوزیشن ارکان چیف منسٹر اور وزراء کی ان کی نشستوں تک آمد کا انتظار کرتے رہ گئے اور انہیں مایوسی ہوئی۔ اجلاس کے آغاز کیلئے جیسے ہی گھنٹی بجائی گئی چیف منسٹر ایوان میں داخل ہوئے اور اپنی نشست سنبھال لی۔ وزیر امور مقننہ پرشانت ریڈی بھی اپنی نشست پر تھے لیکن جیسے ہی انہیں روایت کا خیال آیا وہ تیزی سے اپوزیشن کی نشستوں کی طرف بڑھے اور کانگریس، مجلس اور بی جے پی ارکان سے مصافحہ کرتے ہوئے نشست پر واپس ہوگئے۔ر
٭٭ ایوان کی کارروائی کا آغاز قومی ترانہ جن گن من سے ہوا۔ اسپیکر کے ایوان میں داخل ہوکر کرسی صدارت سنبھالتے ہی قومی ترانہ پڑھا گیا اور تمام ارکان بطور احترام نشستوں سے اُٹھ کھڑے ہوگئے۔ر
٭٭ ایوان میں ہر پارٹی کے ارکان اپنی پارٹی کی شناخت کے ساتھ پہنچے تھے۔ ٹی آر ایس کے تمام ارکان بشمول وزراء پارٹی کا کھنڈوا پہنے ہوئے تھے۔ کانگریس ارکان نے اپنی پارٹی کا کھنڈوا پہن رکھا تھا۔ مجلس کے ارکان شیروانی زیب تن کئے ہوئے تھے جبکہ بی جے پی ارکان نے اپنی پارٹی کا کھنڈوا پہن رکھا تھا۔ ایوان میں مجلس کے 6 ، کانگریس 3 اور بی جے پی کے 2 ارکان شریک تھے۔ راجہ سنگھ پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل میں ہیں لہذا صرف دو ارکان نے شرکت کی۔ر
٭٭ اسپیکر اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی نے مانسون سیشن کیلئے 4 ارکان کو پیانل اسپیکر کے طور پر نامزد کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سیشن کے دوران ڈی ریڈیا نائیک، محمد معظم خاں، ہنمنت شنڈے اور منچی ریڈی کشن ریڈی ایوان کے پیانل اسپیکر کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔ر
٭٭ اسمبلی کے صرف 3 ارکان ماسک پہن کر اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ اور ٹی آر ایس رکن سی ایچ رمیش کے علاوہ نامزد رکن اسٹیفنسن کو ماسک لگائے ہوئے دیکھا گیا جبکہ باقی ارکان ماسک کے بغیر اجلاس میں شریک ہوئے۔ کوویڈ کیسس میں کمی کے بعد اسمبلی میں ارکان کیلئے کوویڈ قواعد میں نرمی پیدا کی گئی ہے۔ر
٭٭ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر ایوان میں توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ دوسری مرتبہ کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد کے ٹی آر آج پہلی مرتبہ گھر سے باہر نکلے اور اسمبلی اجلاس میں شرکت کی۔ کے ٹی آر جو حالیہ دنوں میں فریکچر سے متاثر تھے گھر میں آرام کے دوران کورونا سے دوسری مرتبہ متاثر ہوگئے تھے اور کل ہی انہوں نے کورونا سے نجات پائی۔ ایوان میں پہنچتے ہی برسراقتدار پارٹی ارکان نے کے ٹی آر کو گھیر لیا اور ان سے صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ اجلاس کے التواء کے بعد بیشتر ارکان کے ٹی آر کے اطراف جمع ہوگئے اور ان سے فریکچر اور کوویڈ کے بارے میں سوالات کرنے لگے۔ کچھ دیر تک کے ٹی آر پارٹی ارکان کے ساتھ ایوان میں موجود رہے۔ انہوں نے ماسک پہن رکھا تھا لیکن ساتھی ارکان سے مصافحہ کررہے تھے۔ فریکچر سے مکمل صحتیابی کے بعد کے ٹی آر کو معمول کے مطابق تیزی سے چلتے ہوئے دیکھا گیا۔ر
٭٭ مانسون سیشن کے پہلے دن اسمبلی کے اطراف و اکناف سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس کے کئی پلاٹون تعینات کئے گئے تاکہ اپوزیشن کے کسی بھی امکانی احتجاج سے نمٹ سکیں۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے احتجاج کی اطلاع ملنے پر پولیس نے اسمبلی کے باہر سڑک پر چوکسی میں اضافہ کردیا تھا۔ احتجاجیوں کی گرفتاری کیلئے پولیس کی گاڑیاں تیار رکھی گئیں جس کے نتیجہ میں معمول کی ٹریفک کی رفتار میں خلل پڑا۔ اسمبلی کے باہر اجلاس کے آغاز اور اختتام پر ٹریفک جام دیکھا گیا۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار سیکوریٹی انتظامات کی نگرانی کررہے تھے۔
٭٭ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اسمبلی اور کونسل کے اختتام کے بعد اسپیکر اور صدرنشین کونسل کی صدارت میں بزنس اڈوائزری کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا لیکن چیف منسٹر نے قائد ایوان کی حیثیت سے اجلاس میں شرکت کی روایت سے انحراف کیا۔ حکومت کی جانب سے ریاستی وزراء ہریش راؤ، پرشانت ریڈی، کے ایشور اور جی کملاکر نے اسمبلی کی بی اے سی اجلاس میں شرکت کی جبکہ کونسل کے بی اے سی اجلاس میں پرشانت ریڈی، ہریش راؤ، محمد محمود علی اور ستیہ وتی راٹھور نے حکومت کی نمائندگی کی۔ر