اسمبلی میں ابو عاصم اعظمی کے بیان پر ہنگامہ، معطلی اور غداری کے مقدمہ کا مطالبہ

   

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی میں منگل کو اس وقت شدید ہنگامہ برپا ہو گیا جب حکومتی اتحاد ‘مہا یوتی’ کے اراکین نے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی کو اورنگزیب عالمگیر کی تعریف کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ حکومتی بینچوں نے اعظمی کی اسمبلی سے معطلی اور ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے باعث اجلاس کی کارروائی دو بار ملتوی کرنی پڑی۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، بی جے پی اور شیوسینا کے اراکین نے اعظمی کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اعظمی ایک ایسے مغل بادشاہ کی حمایت کر رہے ہیں، جس نے مراٹھا حکمراں چھترپتی سنبھاجی مہاراج کے خلاف ظلم کیے اور انہیں بے دردی سے قتل کیا تھا۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی اتل بھٹکلکر نے اعظمی کے بیان کو ملک کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان پر غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا، جبکہ شیوسینا کے وزیر گلاب راؤ پاٹل نے بھی سخت کارروائی کی حمایت کی۔ بی جے پی کے رہنما سدھیر منگنٹیوار نے مزید سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اورنگزیب کی قبر کو بھی مسمار کر دینا چاہیے ۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر اسپیکر راہل نارویکر نے پہلے اجلاس 10 منٹ کے لیے ملتوی کیا، لیکن جیسے ہی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، ریاستی وزیر ادے سمنت نے ایک بار پھر اعظمی کی معطلی اور غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر ایسے کسی بھی بیان کو برداشت نہیں کرے گا، جو مراٹھا تاریخ کے خلاف ہو۔ دریں اثنا، شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن بھاسکر جادھو نے اسمبلی میں ہونے والے ہنگامے کو ’’محض ایک سیاسی ڈرامہ‘‘ قرار دیا، جس پر مزید شور شرابہ ہوا اور اسپیکر کو کارروائی مزید 30 منٹ کے لیے ملتوی کرنا پڑی۔ پیر کے روز مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بھی اعظمی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعظمی کے بیانات مراٹھا تاریخ کی توہین کے مترادف ہیں۔

اسی دن تھانے میں نائب وزیر اعلیٰ کے قریبی سمجھے جانے والے لوک سبھا رکن نریش مہاسکے کی شکایت پر اعظمی کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا، جس میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی دفعات شامل کی گئیں۔
ابو عاصم اعظمی، جو سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر صدر ہیں، کا کہنا تھا کہ اورنگزیب کے دور میں ہندوستان کی سرحدیں افغانستان سے برما (میانمار) تک پھیلی ہوئی تھیں اور اس وقت ہندوستان کی معیشت دنیا کی سب سے بڑی تھی، اسی وجہ سے اسے “سونے کی چڑیا” کہا جاتا تھا۔
جب ان سے اورنگزیب اور سنبھاجی مہاراج کے درمیان تنازعے پر سوال کیا گیا تو اعظمی نے اسے محض ایک “سیاسی لڑائی” قرار دیا۔حالیہ دنوں میں سنبھاجی مہاراج کی بہادری پر مبنی فلم ‘چھاوا’ ریلیز ہونے کے بعد اس تاریخی موضوع پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔