جگن موہن ریڈی سے سبق حاصل کرنے کے سی آر کو مشورہ
حیدرآباد۔ 13 جون (سیاست نیوز) سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کے انحراف کے ذریعہ اسمبلی میں اپوزیشن کی آواز کمزور کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 12 ارکان اسمبلی کے انحراف کے بعد کے سی آر مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکٹ ریڈی نے کہا کہ اگر ارکان اسمبلی نے اپنے حلقہ جات کی ترقی کے لیے انحراف کیا ہے تو انہیں پارٹی سے استعفیٰ دے کر ٹی آر ایس میں شامل ہونا چاہئے۔ دوبارہ انتخاب کی صورت میں عوامی تائید کی برقراری واضح ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک پارٹی سے منتخب ہوکر دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا غیر اخلاقی ہے۔ کانگریس نے ارکان اسمبلی کے خلاف اسپیکر سے نمائندگی کی لیکن اسپیکر نے کوئی کارروائی کیئے بغیر ٹی آر ایس میں سی ایل پی کے انضمام کا اعلان کردیا۔ وینکٹ ریڈی نے سدی پیٹ کے پہلے رکن اسمبلی گروا ریڈی کی 8 ویں برسی کی تقاریب میں شرکت کی۔ چاڈا وینکٹ ریڈی نے تلنگانہ کے مسائل کی یکسوئی عدالت کے ذریعہ ہورہی ہے۔ جبکہ حکومت عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکام ہوچکی ہے۔ آندھراپردیش کے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے عوامی مسائل کی سماعت کے لیے پرجا دربار منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن کے سی آر نے گزشتہ 5 برسوں کے دوران عوام سے ملاقات نہیں کی۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی کی طرح کے سی آر کے پاس عوام کے حق میں خیالات نہیں ہیں۔ کے سی آر دور حکومت میں اسمبلی ہائی کورٹ میں تنازعہ کا سبب بن گئی۔ انہوں نے پراجیکٹس کے آغاز کے موقع پر اپوزیشن قائدین کو مدعو کرنے کی تجویز پیش کی۔ وینکٹ ریڈی نے بتایاکہ 19 اور 20 جون کو سی پی آئی قائدین تلنگانہ کے آبپاشی پراجیکٹس کا دورہ کریں گے۔