اسمبلی میں اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش غیرجمہوری

   

حکومت کو عوامی مسائل کے انکشاف کا ڈر، شادنگر میں کانگریس کا زبردست احتجاجی دھرنا ، وی شنکر کا خطاب

شاد نگر: ٹی آر ایس پارٹی و حکومت کی جانب سے خاتون گورنر کو اسمبلی میں خطاب کا موقع نہ فراہم کرنے کی کانگریس پارٹی نے شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ ٹی آر ایس پارٹی حکومت کو یوم خواتین منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ رنگاریڈی ضلع کے شاد نگر کانگریس حلقہ انچارج ویرلاپلی شنکر نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ تلنگانہ اسمبلی میں ٹی آر ایس حکومت اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی ہرطرح کی کوشش کر رہی ہے۔ عوامی مسائل پر اپوزیشن اپنی بات رکھنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن حکومت عوامی مسائل کو موضوع بحث لانے کی کوشش تک نہیں کر رہی ہے۔ اپوزیشن کو اسمبلی سے باہر کرنے کے عمل کو نامناسب عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام ٹی آر ایس پارٹی اور ان کی حکومت کو مستقبل میں بڑا جھٹکا دے گی اور اقتدار سے بے دخل کرے گی۔ ٹی پی سی سی صدر ریونت ریڈی نے کانگریس قائدین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ قانون ساز اسمبلی میں اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی کے کانگریس ارکان کے ساتھ رویہ کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج منظم کریں۔ شادنگر کے کانگریس پارٹی قائدین نے شاد نگر چوراستہ پر امبیڈکر کے مجسمہ کے سامنے منہ پر بلا ک پٹی باندھ کر شدید احتجاجی دھرنا منظم کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ویراپلی شنکر نے مزید کہا کہ ’’جمہوریت کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے دوران اسمبلی میں سرکاری خزانے اور دیگر موضوعات کے انکشافات کے ڈر اور خوف کی وجہ سے اس طرح کی حرکتوں پر اتر آئیں ہیں۔ اپوزیشن کے ڈر اور خوف سے ایوان سے کانگریس ایم ایل ایز کو معطل کرنا غیر مناسب و مضحکہ خیز عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز کونسل سی ایم کے سی آر کے اشاروں پر ایوان کو چلانا غلط ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ریاستی بجٹ میں شہداء کے لواحقین اور بیروزگاری کے مراعات کیلئے رقم بھی مختص نہیں کی گئی۔ انہوں نے حکومت پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنی زمین پر گھر بنانے کے لیے 5 لاکھ روپے دینے کا سابقہ میں اعلان کیا گیا تھا اور آج اس بجٹ میں اس کو کم کر کے 3 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پارٹی کے تمام ارکان کو اسمبلی اجلاس سے نکالنے کا عمل شرمناک ہے، جس کی کانگریس پارٹی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ شنکر نے مقننہ میں اسپیکر کی پالیسی کو جمہوریت کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ بجٹ کی طرح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کو یوم خواتین منانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ ریاستی حکومت نے گورنر کے عہدے کا بھی لحاظ نہیں رکھا۔ گورنر کے عہدے اور ان کے خطبہ کو لے کر حکومت نے جو حرکت کی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت تلنگانہ خواتین کو کتنی اہمیت دیتی ہے اور خواتین کی کتنی پرواہ کرتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کانگریس پارٹی ملک میں خواتین کے ساتھ کھڑی ہے۔ کانگریس پارٹی کے نزدیک خواتین کی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے خاتون کو ملک کا وزیر اعظم بنایا۔کانگریس پارٹی نے خواتین کو عزت اور ان کو ان کا مرتبہ دیا ہے۔ محمد علی خان بابر ، بلراج گوڑ، اشنا گوڑ، چلہ سری کانت ریڈی، خواتین صدور ناگمانی، تروپتی ریڈی، پرشوتم ریڈی، نالہ مونی سریدھر، آندے سری کانت، مبارک علی خان، کھدیر، ناگی سائلو، سریش، لنگرام یادیا، سدرشن، رائیکل سری نواس، پولِم سری کانت ، راجیش، یادایا، علیم، شینو نائک، سیتارام، سندیپ، ومسی، پدمارام وینکٹیش، گنگا مونی ستایا، مانیراوی، راجیندر، بدھ نرسمہا، اشوک، شیکھر، یادیا وغیرہ نے شرکت کی۔ .