SIR کے مسئلہ پر ٹکراؤ، ایوان میں کچھ دیر کشیدگی، اسپیکر کی درمیان میں مداخلت
حیدرآباد ۔ 6 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج اس وقت سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا جب مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی اور بی جے پی کے فلور لیڈر اے مہیشور ریڈی کے درمیان ایس آئی آر (SIR) کے مسئلہ پر سخت لفظی جھڑپ ہوگئی۔ اسمبلی میں جاری بحث کے دوران اکبر الدین اویسی نے الزام عائد کیا کہ بہار اور مغربی بنگال میں اقلیتی ووٹوں کو انتخابی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر محض ایک سیاسی پروپگنڈہ ہے اور اسے مخصوص مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اویسی کے ان ریمارکس پر بی جے پی کے ارکان اسمبلی نے ایوان میں شورو غل کی کیفیت پیدا کردی دوسری جانب مجلس کے ارکان بھی جوابی احتجاج میں اپنی اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوگئے اور بی جے پی کے خلاف آواز اٹھائی۔ بی جے پی کے فلور لیڈر اے مہیشور ریڈی نے اکبر الدین اویسی کے ریمارکس پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسپیکر سے سوال کیا کہ اگر اکبر الدین اویسی اپنی مرضی سے بات کرسکتے ہیں تو دیگر ارکان کو کیوں روکا جارہا ہے۔ انہوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں اس وقت ایک مخصوص موضوع پر بحث جاری ہے۔ مگر اویسی اس بحث کو پٹری سے اُتارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مہیشور ریڈی نے واضح طور پر کہا کہ اکبر الدین اویسی SIR پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے الگ بحث رکھی جائے لیکن موجودہ بحث میں خلل ڈالنا مناسب نہیں ہے۔ ان کے ریمارکس پر ایوان میں ایک بار سیاسی کشیدگی دیکھی گئی۔ دونوں قائدین کے درمیان لفظی جنگ کے باعث کچھ دیر کے لئے ایوان کا ماحول گرما گیا جس پر اسپیکر کو درمیان میں ہی مداخلت کرنی پڑی۔ 2
