مجلس10 برسوں تک بی آر ایس کے ساتھ رہی مسائل یاد نہیں آئے؟۔ پرانا شہر میں عدم ترقی ایم آئی ایم لیڈروں کی ناکامی
جو ایم ایل اے اپنے حلقہ میں دیڑھ سال میں ٹریفک سگنل نصب نہیں کرواسکا وہ کیا نمائندگی کرے گا ؟
حیدرآباد۔/27 مارچ، ( سیاست نیوز) اسمبلی میں کل ریاستی وزیر داسری انا سویا المعروف ستیکا اور مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی کے درمیان لفظی جھڑپ ہوئی ۔ سیاسی تجزیہ نگار اس لفظی جھڑپ کو لفظی مقابلہ قرار دے رہے ہیں ان کے خیال میں اس مقابلہ میں ہوش کو جوش پر فتح ہوئی۔ اس لفظی جھڑپ یا مقابلہ کا ویڈیو وائرل ہوگیا جس پر بے شمار تبصرے بھی سامنے آئے۔ واضح رہے کہ اکبر الدین اویسی نے اسمبلی میں پُرجوش انداز میں پرانا شہر میں انفرااسٹرکچر کے فقدان، پرانا شہر کو دانستہ نظرانداز کئے جانے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثر پولیس اسٹیشن اراضی معاملات کے مراکز میں تبدیل ہوگئے اور ان ( اکبر اویسی ) کی مداخلت سے ایک غریب مستحق کو اس کی زمین واپس مل گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود دیڑھ سال سے مسلسل نمائندگی کررہے ہیں کہ بنڈلہ گوڑہ میں روڈ پر ٹریفک سگنل نصب کیا جائے ان کی نمائندگی پر تاحال کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور پرانا شہر کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اکبر اویسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئے شہر میں فلائی اوورس، انڈر پاس اور ٹریفک کو بہتر بنانے کا انتظام کیا جارہا ہے اور پرانا شہر کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ رئیل اسٹیٹ بری طرح متاثر ہوا ، ٹریفک پولیس صرف چالانات وصول کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بی آر ایس ایسی ناکامیوں و ناقص کارکردگی کی وجہ سے اقتدار سے محروم ہوگئی جس پر وزیر بہبود خواتین و اطفال داسری انا سویا المعروف سیتکا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اکبر اویسی غیر منصفانہ طور پر کانگریس پر الزامات عائد کررہے ہیں۔ سیتکا نے اکبر اویسی کے الزامات کا جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے جواب دیا اور کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ دراصل منشیات وی دیگر مسائل سے جڑا ہے۔ جواب میں مجلس کے فلور لیڈر نے کہا کہ میں کسی پر الزام عائد نہیں کررہا ہوں اور نہ کسی کو ذمہ دار ٹہرارہا ہوں۔ اکبراویسی نے سیتکا کی مداخلت پر کہا کہ وہ معذرت خواہ ہیں انہیں تلگو نہیں آتی اور وزیر محترمہ اردو اور انگریزی سمجھنے سے قاصر ہیں وہ ایوان میں کسی کے کان خوش کرنے نہیں آئے۔ سیتکا نے پرزور انداز میں ( اکبر اویسی کے اس بیان کا جس میں انہوں نے کہا تھا ’ آپ کو ہندی اور انگریزی نہیں آتی ‘ ) کہا کہ میری مادری زبان تلگو ہے میں تلگو میں بات کروں گی، ایم آئی ایم دس برسوں تک بی آر ایس کی حلیف رہی خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا، بی آر ایس دور میں منشیات کی لعنت پھیلی تب مجلس کیا کررہی تھی۔ سیتکا کے مطابق اکبر اویسی نے خطاب میں کوئی مثبت بات نہیں کی۔ واضح رہے کہ سیتکا ماضی میں برسوں تک نکسلائیٹس سے وابستہ رہیں وہ سیاسی قائدین کی وفاداری، غداری، مفاد پرستی ، سازشوں و منصوبوں کو اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ وہ آدی واسی گٹی کویا قبائل کے ساریا اور ساریکا کی چھوٹی بیٹی ہیں‘ مُلگ کے جگنا پیٹ میں ان کی پرورش ہوئی، 80 کے دہے میں وہ ماویسٹوں سے متاثر ہوئیں۔ سیتکا کے بھائی سمہیا انکاؤنٹر میں مارے گئے۔ 1997 میں سیتکا نے ہتھیار ڈال دیئے پہلے وہ تلگودیشم میں شامل ہوئیں لیکن 2004 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہاں 2009 میں کامیاب ہوئیں‘ 2014 میں بی آر ایس کے مقابلہ انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 2018 اور 2023 میں کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ سیتکا اور اکبر اویسی کے درمیان نوک جھونک پر سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ سیتکا تلنگانہ کی خاتونِ آہن ہیں، ان لوگوں نے اکبر اویسی کی قیادت پر سوالات اُٹھائے اور کہا کہ جو عوامی نمائندہ اپنے حلقہ میں دیڑھ سال سے ٹریفک سگنل نصب نہیں کرواسکا وہ عوام کی نمائندگی کیسے کرتا ہوگا؟ ان تجزیہ نگاروں کے خیال میں اکبر اویسی نے رئیل اسٹیٹ متاثرین پر تشویش ظاہر کی جبکہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ پرانا شہر میں رئیل اسٹیٹ لینڈ گرابنگ کون کرتا ہے، کون کرواتا ہے۔ پرانا شہر میں لینڈ گرابرس‘ روڈی شیٹرس کی حوصلہ افزائی کون کرتا ہے اور رئیل اسٹیٹ شعبہ کے متاثر ہونے پر وہ تشویش کا اظہار کیوں کر رہے ہیں۔ کانگریس قائدین کے خیال میں اگر اکبر اویسی یہ کہتے ہیں کہ پرانا شہر کو دانستہ نظرانداز کیا جارہا ہے تو وہ خود اپنی اور اپنی جماعت کے ایم پی ، ایم ایل ایز اور کارپوریٹرس کی کارکردگی پر انگلی اُٹھا رہے ہیں ۔ نئے شہر میں ترقی اور پرانا شہر میں پسماندگی کا رونا بھی غلط ہے اس معاملہ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایم آئی ایم اور اس کے لیڈر برسوں سے کیا کررہے ہیں۔ یہ حقیقت میں دیکھا جائے تو ان کی خود اپنی ناکامی ہے۔