طبقوں میں بٹ جانے کی وجہ مسلمانوں کو سیاسی نقصان ، شکیل عامر کا خطاب
بودھن یکم / نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) جمعیت العلماء صدر ضلع نظام آباد حافظ لئیق خان کے زیر صدارت گذشتہ رات یہاں بودھن کے ایک فنکشن ہال میں بعنوان ’’موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں ‘‘ ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس اجلاس میںشکیل عامر رکن اسمبلی بودھن نے حاضرین سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں موجود ہر طبقہ چاہے وہ کسی پیشہ سے کیوں نہ وابستہ ہو وہ متحد ہوکر حکومت سے اپنے مطالبات منواتے ہیں ۔ شکیل عامر نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں بعض ایسے طبقات بھی آباد ہیں ۔ جن کی مجموعی آبادی کا فیصد تین ہے لیکن ایوان اسمبلی میں ان کے 58 ایم ایل اے موجود ہیں ۔ جبکہ ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی تیس فیصد سے بھی زیادہ ہے ۔ اس حساب سے تلنگانہ اسمبلی میں مسلم نمائندوں کی تعداد کم از کم 30 ہونی چاہئے تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم طبقہ میں سیاسی بصیرت کی کمی کے باعث مسلمانوں کی حالت آج دلت و دیگر کمزور طبقات سے بھی بدتر ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کلمہ گو مسلمان طبقوں میں بٹ رہے ہیں ۔ جن کا فائدہ غیر مسلم قائدین اٹھا رہے ہیں ۔ شکیل عامر نے کہا ہمارے جمہوری نظام حکومت میں ووٹ ایک ہتھیار ہے جس کے صحیح استعمال سے ایک بہترین نظام حکومت قائم کیا جاسکتا ہے ۔ قبل ازیں صدر مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ تلنگانہ و آندھراپردیش شاہ محمد جمال الرحمن نے اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے حالات حاضرہ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور امت محمدیہ کو اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دینے کی خواہش کی ۔ ان کے علاوہ حلقہ اسمبلی بودھن سے تعلق رکھنے والے ائمہ و علماء و دیگر معزز شخصیات نے بھی اجلاس سے مخاطب کیا اور عالمی و قومی سطح پر مسلمانوں کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسائل کا سامنا کرنے مذہب اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا مشورہ دیا ۔