اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش،بھٹی وکرامارکا اور دیگر ارکان کا الزام
حیدرآباد۔/15 ستمبر، ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ وبائی اور بالخصوص ڈینگو جیسے امراض کے بارے میں حکومت اسمبلی میں موثر انداز میں جواب دینے سے قاصر رہی۔ وبائی امراض پر قابو پانے کیلئے حکومت کے پاس کوئی مبسوط لائحہ عمل نہیں ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹرس، نرسنگ اسٹاف اور ادویات کی کمی کے سبب عوام کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے بارہا توجہ دہانی کے باوجود سرکاری دواخانوں کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں ہوئی۔ وزیر صحت ایٹالہ راجندر اعتراف کررہے ہیں کہ سرکاری دواخانوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی کثیر تعداد بیمار ہے اور تلنگانہ ایک بیمار ریاست میں تبدیل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں طبی سہولتوں میں اضافہ تک کانگریس پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے اسمبلی میں چیف منسٹر کے بیان کو غیر اطمینان بخش قرار دیا اور کہا کہ کانگریس نے جو سوالات پیش کئے تھے ان کا جواب نہیں دیا گیا۔ بیروزگاری کے خاتمہ کے سلسلہ میں کانگریس کی جانب سے تحریک التواء پیش کی گئی لیکن حکومت اس مسئلہ پر مباحث کیلئے تیار نہیں ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ نئے روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے لیکن وعدہ پر عمل آوری نہیں ہوئی۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کانگریس نے بیروزگار نوجوانوں کے حق میں بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ نوجوانوں کے ساتھ رہے گی۔ انتخابات سے قبل نوجوانوں کو بیروزگاری بھتہ دینے کا اعلان کیا گیا لیکن آج تک عمل آوری نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ یورانیم کی کھدائی کی اجازت کو فوری منسوخ کرے۔ کانگریس رکن اسمبلی سیتا اکا نے کہا کہ اسمبلی میں عوامی مسائل پر اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جنگلاتی اراضی اور قبائیلی کسانوں کے مسائل پر حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سیتا اکا نے کہا کہ یورانیم کیلئے کھدائی سے قبائیلیوں کو بھاری نقصان ہوگا۔ رکن اسمبلی جگا ریڈی نے سنگاریڈی ضلع ہاسپٹل میں روزانہ تقریباً ایک ہزار مریض آتے ہیں جن میں زیادہ تر وبائی امراض سے متاثر ہیں۔ ہاسپٹل میں بنیادی طبی سہولتیں دستیاب نہیں۔ انہوں نے وزیر صحت سے سنگاریڈی ہاسپٹل کا دورہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر ایوان میں اظہار خیال کی کوشش کی گئی تو حکومت نے اجازت نہیں دی۔ برسراقتدار پارٹی اور مجلسی ارکان کو پوچھتے ہی مائیک دیا جارہا ہے۔ کانگریس رکن ہونے کے سبب مجھے مائیک نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کا تعلق متحدہ میدک ضلع سے ہے لہذا انہیں خود سنگاریڈی ہاسپٹل کا دورہ کرنا چاہیئے۔
