اسمبلی میں 15 سال سے کانگریس پارٹی کی کوئی مسلم نمائندگی نہیں

   

جبکہ تلنگانہ کے 40 اسمبلی حلقوں میں مسلمانوں کا فیصلہ کن موقف۔ سیاسی جماعتیں یا اور کون ذمہ دار ؟
حیدرآباد۔/30 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقتدار کی دعویداری پیش کرنے والی کانگریس پارٹی نے کافی شور شرابہ کے ساتھ انتخابی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ 18 تا25 اگسٹ مقابلہ کرنے والے قائدین سے درخواستیں بھی طلب کی گئی ہیں۔ کانگریس کو اس مرتبہ119 اسمبلی حلقوں کیلئے1026درخواستیں بھی وصول ہوئی ہیں۔ امیدواروں کے انتخاب کا جائزہ لینے کیلئے گاندھی بھون میں پردیش الیکشن کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے۔ واضح رہے کہ 2014-2009 اور 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کا ایک بھی مسلم رکن اسمبلی منتخب نہیں ہوا ہے جبکہ ریاست کے 40 اسمبلی حلقوں میں مسلمانوں کا فیصلہ کن موقف ہے وہ جس کو بھی ووٹ دیتے ہیں اس کی کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔ تلنگانہ میں انتخابی تیاریاں کرنے والی کانگریس پارٹی کرناٹک ماڈل کو دہرانے کی بات کررہی ہے۔ کرناٹک کے انتخابات میں کانگریس پارٹی نے 15 مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتارا جس میں 9 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ سال2018 کے انتخابات میں کانگریس، تلگودیشم، سی پی آئی نے اتحاد کرتے ہوئے مقابلہ کیا تھا اس اتحاد میں کانگریس پارٹی نے 8 مسلم قائدین محمد علی شبیر ( کاماریڈی) ، طاہر بن حمدان ( نظام آباد اربن ) کو امیدوار بنایا تھا۔ تلگودیشم کے ٹکٹ پر مظفر علی خان نے ملک پیٹ سے مقابلہ کیا تھا۔ فیروز خان ( نامپلی ) سے کانگریس کے امیدوار تھے۔ ماباقی پرانے شہر کے چند اسمبلی حلقوں سے مسلمانوں کو امیدوار بنایا گیا تھا۔ اس مرتبہ اضلاع سے 6 مسلم امیدوار محمد علی شبیر ( کاماریڈی) ، طاہر بن حمدان ( نظام آباد اربن ) ، ساجد خان ( عادل آباد ) ، سید عظمت اللہ حسینی (ورنگل ایسٹ ) ، محمد جاوید ( کھمم ) ، عبید اللہ کوتوال ( محبوب نگر ) کے علاوہ دوسروں نے پارٹی ٹکٹ کیلئے درخواست داخل کیا ہے۔ اس کے علاوہ سکندرآباد لوک سبھا کے حدود میں شامل اسمبلی حلقہ ( جوبلی ہلز ) سے محمد اظہر الدین اور عامر جاوید اسمبلی حلقہ (نامپلی ) سے فیروز خان کے علاوہ دوسروں نے درخواستیں داخل کی ہیں۔ حیدرآباد لوک سبھا حلقہ کے حدود میں شامل تمام اسمبلی حلقوں کیلئے کئی مسلم قائدین نے درخواستیں داخل کی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لوک سبھا سکندرآباد کے حدود اور اضلاع سے کانگریس پارٹی کتنے مسلمانوں کو امیدوار بناتی ہے۔ کانگریس کے سینئر قائد سابق وزیر محمد علی شبیر کو کانگریس پارٹی ضرور امیدوار بنائے گی۔ اسمبلی حلقہ ورنگل ایسٹ میں مسلمانوں کے 60 ہزار ووٹ ہیں، اسمبلی حلقہ نظام آباد اربن میں 70 ہزار سے زائد ووٹ ہیں، اسمبلی حلقہ محبوب نگر میں 50 ہزار سے زائد مسلم ووٹ ہیں۔ اس طرح عادل آباد اور کھمم اسمبلی حلقوں میں 40 ہزار سے زائد مسلم ووٹ ہیں۔ ریاست میں ایس سی طبقہ کیلئے 20 اور ایس ٹی طبقہ کیلئے 11 اسمبلی حلقوں کو محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ ان حلقوں پر مقابلہ کرنے والے امیدواروں کو کانگریس پارٹی دوسروں سے زیادہ مالی امداد کرتی ہے۔ ریاست میں 40 ایسے اسمبلی حلقے ہیں جہاں مسلمانوں کا فیصلہ کن موقف ہے۔ ایسے میں کانگریس پارٹی اضلاع سے کیا 4 مسلم قائدین کو امیدوار بنائے گی اور ان کی کامیابی کی ہر طرح سے ذمہ داری قبول کرے گی۔ کیونکہ ریاست میں اضلاع سے مسلم نمائندگی ختم ہورہی ہے۔ مسلمانوں کو بھی اس جانب سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب مسلمان 40 نشستوں پر کسی کو بھی کامیاب بناسکتے ہیں تو 4 حلقوں پر مسلمانوں کو ٹکٹ دینے اور کامیاب بنانے میں کیا برائی ہے۔ن