ایس سی ایس ٹی اور بی سی سے متعلق علیحدہ کمیٹیاں قائم، اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی کا اعلامیہ
حیدرآباد۔ 23 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے ارکان پر مشتمل 9 مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن میں اقلیتی بہبود، قبائیلی بہبود، بہبودیٔ پسماندہ طبقات اور سماجی بہبود کی کمیٹیاں شامل ہیں۔ اقلیتی بہبود کمیٹی کے صدرنشین محمد فرید الدین ہوں گے جبکہ ارکان میں ٹی پرکاش گوڑ، ڈی گنیش، ایم گوپی ناتھ، پی شیکھر ریڈی، کے مانک رائو، احمد بن عبداللہ بلعلہ، ایلوس اسٹیفنسن، سید امین الحسن جعفری، ڈی راجیشور رائو اور فاروق حسین شامل ہیں۔ بہبودیٔ ایس سی طبقات کمیٹی کے صدرنشین کے یادیا مقرر کئے گئے ہیں جبکہ ارکان میں اے رمیش، سی ایچ لنگیا، ڈی چنیا، آر بال کشن، ڈاکٹر آنند متکو، روی شنکر سنکے، سریمتی اناسویا دنسری، نارا داس لکشمن رائو، وائی ملیشم اور ڈی راجیشور رائو شامل ہیں۔ بہبودیٔ درج فہرست قبائل کمیٹی کے صدرنشین ڈی ایس ریڈیا نائک ہوں گے جبکہ ارکان کی حیثیت سے آر رویندر کمار، اے سکو، ڈی شنکر نائک، باپو رائو راتھوڑ، ایم ریڈی بھوپال ریڈی، شریمتی ہری پریہ بنوت، ایل راملو، ڈی لکشمی نارائنا، اے کرشنا ریڈی اور اے نرسی ریڈی شامل کئے گئے۔ بہبودی پسماندہ طبقات کمیٹی کے صدرنشین وائی انجیا ہوں گے جبکہ ارکان میں باجی ریڈی گووردھن، بی ملیا یادو، کے وینکٹیش، متاگوپال، این نریندر، ممتاز احمد خاں، اے چندر، وائی ملیشم، ٹی سرینواس ریڈی اور کے جناردھن ریڈی شامل ہیں۔ ایس راجیندر ریڈی کو لائبریری کمیٹی کا صدرنشین مقرر کیا گیا جبکہ ارکان میں سی ایچ برہما ریڈی، شریمتی بی ہری پریا، کے اوپیندر ریڈی، ڈاکٹر این سنجئے، روہت ریڈی، شریمتی اناسویا دنسری، کے نارائن ریڈی، کے نوین رائو اور کے جناردھن ریڈی شامل ہیں۔ بہبودیٔ خواتین و اطفال معذورین و معمرین کمیٹی کی صدرنشین شریمتی اجمیرا ریکھا ہوں گی جبکہ ارکان میں ایم نرسمہیا، شریمتی پدما دیویندر ریڈی، سی ایچ مدن ریڈی، جی وٹھل ریڈی، شریمتی بی ہری پریا، کے بھوپال ریڈی، ایم ناگیشور رائو، شریمتی اے للیتا، ڈاکٹر ایم سرینواس ریڈی اور کے رگھوتم ریڈی شامل ہیں۔ تحفظ ماحولیات و جنگلاتی زندگی سے متعلق کمیٹی کے صدرنشین اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی ہوں گے جبکہ ارکان میں سی ایچ رام موہن ریڈی، اے سکو، ایم بھوپال ریڈی، ایم جناردھن ریڈی، محمد معظم خان، پی ویریا، ایس وینکٹ ویریا، پی ستیش کمار، آر سبھاش ریڈی اور ریاض الحسن آفندی شامل ہیں۔ اسپیکر نے قانون سازی اور اسمبلی میں سہولتوں سے متعلق دو علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ واضح رہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی، اسٹیمیٹ کمیٹی اور پبلک انڈرٹیکنگس کمیٹی کا اسمبلی میں پہلے ہی اعلان کیا جاچکا ہے۔