اسمبلی کے مانسون سیشن کا آئندہ ماہ انعقاد ممکن

   

گورنر سے اختلافات کے پس منظر میں نئے بلز متعارف نہیں ہوں گے
حیدرآباد۔/16جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا مانسون سیشن توقع ہے کہ اگسٹ کے دوسرے ہفتہ میں منعقد ہوگا۔ دستوری اصول کے تحت حکومت نے مانسون سیشن کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ حکومت اسمبلی میں کسی نئے بل کو پیش کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری بلز کی منظوری کے مسئلہ پر گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن سے حالیہ عرصہ میں تلخ تجربہ کے بعد حکومت نے مانسون سیشن کو سرکاری بلز کے بغیر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نئے بلز کے بجائے بعض موجودہ قوانین میں ترمیم کیلئے ترمیمی بل پیش کئے جائیں گے۔ اسمبلی کا بجٹ سیشن جاریہ سال فروری میں منعقد ہوا تھا۔ دستوری اصول کے تحت 6 ماہ میں ایک مرتبہ اسمبلی کا اجلاس ضروری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نئی اسپورٹس پالیسی کو متعارف کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ جات سماجی بھلائی، جنگلات، تعلیم اور بلدی نظم و نسق کے بعض قوانین میں ترمیم کے لئے ترمیمی بل پیش کئے جائیں گے۔ گورنر نے گذشتہ ایک سال کے دوران کئی بلز کی منظوری میں رکاوٹ پیدا کی۔ تمام سرکاری یونیورسٹیز میں تقررات کیلئے مشترکہ ریکروٹمنٹ بورڈ کی تشکیل سے متعلق بل پر گورنر نے اعتراضات کئے تھے۔ خانگی یونیورسٹیز بل اور میونسپل قوانین ترمیمی بل کے علاوہ میڈیکل پروفیسرس کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ سے متعلق بل کو گورنر نے واپس کردیا۔ حکومت نے جن سرکاری بلز کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے ان کا جواب تاحال روانہ نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 2015 سے حکومت نے ہر سال 10 تا 12 نئے بلز متعارف کئے جبکہ 2023 میں صرف 5 بلز پیش کئے گئے۔
2016 میں سب سے زیادہ 28 بلز متعارف کئے گئے اور منظوری حاصل کی گئی۔ 2020 میں اسمبلی نے 22 بلز کو منظوری دی جبکہ گذشتہ سال متعارف کئے گئے 12 بلز میں گورنر نے 3 بلز کو وضاحت طلب کرتے ہوئے واپس کردیا۔ گورنر سوندرا راجن نے حال ہی میں وضاحت کی ہے کہ راج بھون کے پاس کوئی بل زیر التواء نہیں ہے اور بعض بلز کو صدر جمہوریہ کی منظوری کیلئے روانہ کیا گیا۔ر