نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کے دو کروڑ کے ہتک عزت کیس میں کانگریس لیڈروں کے خلاف حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے حکم میں کہا ہے کہ پہلی نظر میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اسمرتی ایرانی یا ان کی بیٹی کے نام پر کسی بھی بار کا لائسنس نہیں ہے۔ نہ ہی وہ ریستوران اور بار کی مالک ہیں۔ اسمرتی ایرانی یا ان کی بیٹی نے کبھی لائسنس کے لیے درخواست بھی نہیں دی۔ہائی کورٹ نے کہا کہ گوا حکومت کی طرف سے دیا گیا وجہ بتاؤ نوٹس بھی اسمرتی ایرانی یا ان کی بیٹی کے نام پر جاری نہیں کیا گیا ہے۔ پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ عرضی گزار سمرتی ایرانی کے پیش کردہ کاغذات ان کے موقف کو مضبوط کرتے ہیں۔