اسوۂ ابراہیمی پر عمل اور پسندیدہ شئے اللہ کے حضور پیش کرنا ہی قربانی

   

یکساں سیول کوڈ کی سخت مخالفت ، دونوں شہروں میں عید الاضحی خشوع و خضوع کے ساتھ منائی گئی ، خطیب حضرات کا خطاب
حیدرآباد۔30۔جون(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے تمام اضلاع اور ملک میں عید الاضحی خشوع و خضوع کے ساتھ منائی گئی ۔ شہر حیدرآباد میں نماز عید الاضحی کا سب سے بڑا اجتماع عیدگاہ میر عالم پر دیکھا گیا جبکہ شہر کی دیگر عیدگاہوں پر بھی مصلیان کی بڑی تعداد نے نمازعید الاضحی ادا کی ۔ علماء اکرام و خطیب حضرات نے نماز عید الاضحی سے قبل فضائل عید بیان کرتے ہوئے امت مسلمہ کو سنت ابراہیمی کی اہمیت و افادیت سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت سیدنا ابرہیم علیہ السلام کی سنت کو جو اہمیت دی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے قربانی کو کس قدر اہمیت دی ہے۔شہر کی بیشتر تمام عیدگاہوں میںعلماء نے مصلیان اکرام کو یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کا عہد کروایا اور اس کے نقصانات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ہندستان ایک کثیر مذہبی مملکت ہے اور ہندستان میں ہر شہری کو اس کے مذہب کے قوانین پر عمل آوری کا حق حاصل ہے۔ خطیب حضرات نے کہا کہ اسوۂ ابراہیمی پر عمل کرنا اور اپنی پسندیدہ شئے اللہ کے حضور پیش کرنے کا جذبہ رکھنا ہی قربانی ہے۔ عید گاہ میر عالم پر مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے فضائل عید بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے جوتحفے عطا کئے ہیں ان میں عیدین بھی عظیم تحائف میں شامل ہیں۔ انہوں نے یکساں سیول کوڈ پر حکومت کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندستانی مسلمان ان کوششوں کو برداشت نہیں کریں گے اور اس کی شدت سے مخالفت کریں گے۔انہوں نے اس موقع پر شرکاء کو عہد کروایا کہ وہ یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کریں گے اور شریعت محمدیﷺ میں کسی بھی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔مولانا جعفر پاشاہ نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیمات محمدی ﷺ اور اسوۂ رسولﷺ سے واقف کروائیں۔ انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو صحابیات کی زندگی اور ان کے عمل سے واقف کرواتے ہوئے دنیا کے ساتھ ساتھ دینی علوم سے واقف کروائیں۔ مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران قربانی کی اہمیت و فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ نے اپنے جد کی اس سنت کو ہم تک پہنچاتے ہوئے دراصل ہمیں اللہ کی راہ میں قربانی کے لئے تیار رہنے کی تربیت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کیا ہے کہ اللہ کے پاس نہ قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون پہنچتا ہے بلکہ قربانی کرنے والی نیت اور اس کا جذبہ اللہ کے حضور پہنچتا ہے۔ مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے والدین کا احترام کریں کیونکہ عیدالاضحی صرف قربانی کا نہیں بلکہ راہ الہی میں اپنے والد کی بات کی اہمیت اور فرماں برداری کا بھی درس دیتی ہے۔بعدازاں مولانا محمد رضوان قریشی خطیب و امام مکہ مسجد نے نماز عید کی امامت کی اور خطبہ دیا۔ دونوں شہروں کی کئی عیدگاہوں میں نماز عید کا اہتمام کیا گیا جن میں عیدگاہ گنبدان قطب شاہی ‘ عیدگاہ مادننا پیٹ کے علاوہ قلی قطب شاہ اسٹیڈیم ‘ عیدگاہ وادیٔ ہدیٰ کے علاوہ دیگر مقامات پر کثیر اجتماعات دیکھے گئے ۔تاریخی مکہ مسجد‘ جامع مسجد چوک‘ عیدگا بلالی (ہاکی گراؤنڈ) عیدگاہ بالامرائی ‘ جامع مسجد چوک ‘ شاہی مسجد باغ عامہ ‘ جامع مسجد ٹین پوش‘ ریڈ ہلز گراؤنڈ ‘ کے علاوہ دیگر مقامات پر نماز عید الاضحی کے موقع پر کثیر اجتماع دیکھا گیا۔ عیدگاہ عنبر پیٹ میں مولانا مفتی ضیاء الدین نقشبندی صدر مفتی جامعہ نظامیہ نے نماز عید پڑھائی اور خطبہ دیا۔ قلی قطب شاہ گراؤنڈ میں نماز عید الاضحی کی امامت و خطابت کے فرائض مولانا شیخ عبدالرحیم خرم جامعی نے انجام دیئے ۔عید گاہ میر عالم میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے وسیع و عریض انتظامات کئے گئے تھے اور سایہ دار شامیانوں کی تنصیب عمل میں لائی گئی تھی۔ مختلف محکمہ جات کی جانب سے بھی عیدگاہ میر عالم اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں انتظامات کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے گئے تھے اور محکمہ پولیس کی جانب سے عیدگاہ میں داخل ہونے والوں کو میٹل ڈیٹکٹر سے گذارنے کے انتظامات کئے گئے تھے جبکہ محکمہ آبرسانی ‘ برقی ‘ بلدیہ اور محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے بھی وسیع انتظامات کو یقینی بنایا گیا تھا۔شہر کی دیگر مساجد و عیدگاہوں کے آس پاس بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے وسیع پیمانے پر صفائی کے انتظامات کئے گئے تھے علاوہ ازیں دونوں شہروں کے مختلف رہائشی آبادیوں سے کچہرے کی فوری نکاسی کے لئے بھی گاڑیوں کو متحرک رکھا گیا تھا جس کے نتیجہ میں کئی علاقوں سے فوری طور پر قربانی کے بعد پھینکے جانے والے باقیات کو اٹھادیا گیا۔م