اسٹارٹ اَپ کمپنیوں کو معاشی ترقی سے مربوط کرنا

   

ظہور حسین بٹ
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے اسٹارٹ اپ ماہر اور آئی وی ایل پی سے استفادہ کرنے والے وجئے باورا امریکی کاروباری نظام سے حاصل کردہ عملی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہندوستانی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو امریکی منڈیوں تک رسائی میں مدد کرکے مشترکہ معاشی ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔
امریکہ نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ چھوٹے کاروباروں کے لئے مضبوط معاون نظام معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی کو فروغ دیتے ہیں۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (آئی وی ایل پی) کے ذریعہ دنیا کے مختلف گوشوں سے آنے والے شرکا، جن میں ہندوستان بھی شامل تھا، نے قریب سے دیکھا کہ امریکی ادارے ، وفاقی ایجنسیوں سے لے کر مقامی تنظیموں تک کس طرح کاروباری افراد کے خیالات کو کامیاب کمپنیوں میں تبدیل کرنے اور دیرپا خوشحالی پیدا کرنے میں عملی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے تبادلہ پروگرام اس لحاظ سے بھی اہم ہوتے ہیں کہ شرکا نئی بصیرت، شراکت داریاں اور مواقع اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، جو امریکہ کی تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ان ہی شرکا میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے اسٹارٹ اپ ماہر وجئے باورا بھی شامل تھے، جنہوں نے آئی وی ایل پی بعنوان ’’معاشی خوشحالی کو آگے بڑھانا: کاروباری سرگرمیاں اور چھوٹے کاروبار کی ترقی‘‘ میں شرکت کی۔ اس پروگرام کے تحت انہوں نے امریکہ کے مختلف شہروں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قریب سے دیکھا کہ شہری، ریاستی اور وفاقی سطح پر ادارے کس طرح واضح اور متعین کرداروں کے ذریعہ کاروبار کے قیام اور فروغ میں معاونت کرتے ہیں۔
وجئے کو انجینئرنگ، بزنس ڈیولپمنٹ اور اختراعی منصوبوں میں 17 سال کا تجربہ ہے۔ اس دورہ سے واضح ہو گیا کہ امریکی چھوٹے کاروبار معیشت کو کیسے آگے بڑھاتے ہیں۔ وہ امریکہ کے کاروباری نظام کو سمجھ کر واپس آئے اور اب اپنے تجربات کو استعمال کرتے ہوئے ان ہندوستانیوں کی مدد کررہے ہیں جو امریکی منڈیوں میں اپنا کاروبار بڑھانا چاہتے ہیں۔ سانچی کنیکٹ کے ذریعہ وہ اسٹارٹ اپس کو عالمی مواقع تلاش کرنے اور ان تک پہنچنے میں رہنمائی دیتے ہیں اور یہ کام وہ امریکی کاروباری، رہنماؤں اور جدت کے ماہرین سے سیکھی گئی باتوں کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
ایک منظم اور مؤثر نظام
وجئے کے مطابق، آئی وی ایل پی کے دوران سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ امریکہ نے اپنے اختراعی نظام کو سوچ سمجھ کر اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ اس سے ملکی خوشحالی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور طویل المدتی مسابقت کی صلاحیت برقرار رہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں ’’یہ سب کسی ایک بڑے پروگرام کی وجہ سے نہیں ہوتا جو سب کچھ کر دے، بلکہ یہ ایک طویل سلسلہ ہے جس میں مختلف مربوط حصے شامل ہیں، جیسے یونیورسٹیاں، شہر کے اقتصادی دفاتر، وفاقی معاونت، کارپوریٹ ایکسیلیریٹرس اور مضبوط نجی سرمایہ سب اپنی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں اور ایک دوسرے پر حاوی ہوئے بغیر کام کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے خاص طور پر اس بات پر توجہ دی کہ اس نظام میں ہر چیز کتنی پیش بینی کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’چاہے یونیورسٹی کا لیب ہو، شہر کا اختراعی دفتر ہو یا کوئی وفاقی ادارہ، ہر کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی خیال کو تصور سے لے کر صارف تک پہنچانے میں ان کا کیا کردار ہے۔ یہی وضاحت کام کی رفتار اور اعتماد دونوں کو فروغ دیتی ہے۔‘‘ آئی وی ایل پی کے شرکا نے دیکھا کہ امریکی اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن (ایس بی اے) اور اسکور جیسے ادارے اس صفت کو کس طرح برقرار رکھتے ہیں۔ ایس بی اے چھوٹے کاروباروں کو مشورہ، سرمایہ اور ٹھیکے حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ اسکور تجربہ کار رہنماؤں کو ابتدائی مرحلے کے بانیوں سے جوڑتا ہے۔
امریکی بانیوں سے بات چیت نے وجے کے کاروباری کلچر کے فہم کو بھی شکل دی۔ وہ کہتے ہیں ’’ان کا اعتماد شور یا دھوم دھام سے نہیں آتا بلکہ وضاحت اور سمجھ سے آتا ہے۔ وہ اپنا خیال ایک سادہ جملے میں بیان کر سکتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اسے مشکل حالات میں بار بار پرکھا ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات کا بھی مشاہدہ کیا کہ امریکہ میں خطرہ مول لینے کا متوازن رویہ معیشت کو مضبوط بناتا ہے۔ ان کے مطابق ’’وہاں ناکامی کو کسی داغ کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ سیکھنے کے ایک ذریعے کے طور پر لیا جاتا ہے۔
بازار میں داخلہ آسان بنانا
وجئے نے ہندوستانی بانیوں میں ایک واضح رجحان دیکھا جو امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ مضبوط تکنیکی مہارت رکھتے ہیں اور مقابلہ کرنے والی مصنوعات تیار کرتے ہیں، لیکن اکثر امریکی نظام کو سمجھنے میں مشکل کا سامنا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’تکنیکی مہارت تو موجود ہے اور مصنوعات بھی مضبوط ہیں، لیکن قوانین، بھرتی کے عمل، بازار میں جانا، سرکاری مراعات یا گاہکوں کی توقعات اکثر غیر واضح اور مشکل لگتی ہیں۔‘‘ انہوں نے کئی بانیوں سے یہ سنا ’’کاش کسی نے ہمیں شروع میں ہی ایک واضح رہنمائی فراہم کی ہوتی۔‘‘آئی وی ایل پی کے دوران ایک نمایاں بات یہ رہی کہ امریکی ادارے بامعنی شراکت اور رابطے کے لئے کھلے دل سے آمادہ ہوتے ہیں۔ مختلف نشستوں میں شرکا کو چھوٹے کاروباروں کے لئے دستیاب قرضہ جاتی پروگراموں، رہنمائی کے نیٹ ورکس، برآمدی معاونت اور بازار سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ٹولز سے روشناس کرایا گیا۔
مشترکہ فائدہ، مشترکہ ترقی
ایک ملاقات کے دوران شہر کے معاشی ترقی کے ایک رہنما نے کہا ’’ہم صرف عالمی بانیوں کو خوش آمدید نہیں کہتے، ہم ان کے لئے میدان ہموار بھی کرتے ہیں۔‘‘ یہ جملہ وجے کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ وہ کہتے ہیں ’’ اس نے وہ ذہنی رکاوٹ دور کردی جو بہت سے ہندوستانی اسٹارٹ اپس کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ احساس کہ امریکی بازار بہت دور یا بہت مشکل ہے۔‘‘
وجے کا ماننا ہے کہ ڈیپ ٹیک (جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی نظام) ، صحت، صنعت اور نقل و حرکت جیسے شعبوں میں ہندوستان اور امریکہ کو جوڑنے کے واضح فوائد ہیں۔ ان کے مطابق، امریکہ کاروبار کو وسیع پیمانے پر بڑھانے کے مواقع، گہرے سرمایہ جاتی وسائل اور تجارتی شکل دینے کے آزمودہ نظام فراہم کرتا ہے، جبکہ ہندوستان تیز رفتاری اور باصلاحیت افرادی قوت کا حصہ ڈالتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان قوتوں کو یکجا کرنے سے امریکی کمپنیوں کے لیے نئی منڈیاں کھل سکتی ہیں اور سپلائی چین کی مضبوطی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’اس کے معاشی فوائد دونوں سمتوں میں ہوں گے۔ زیادہ اعلیٰ مہارت والے روزگار، زیادہ مضبوط سپلائی چینز، اور مشترکہ طور پر تیار کی گئی اختراعات کا ایک مسلسل سلسلہ۔‘‘
بشکریہ: اَسپین میگزین